’پراسرار تنظیم‘ فری میسنری: برطانوی پولیس اپنی پالیسی پر ڈٹ گئی، آخر معاملہ کیا ہے؟

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس (میٹ پولیس) کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کا بھرپور دفاع کرے گی جس کے تحت پولیس افسران اور عملے کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ آیا وہ فری میسنری تنظیم کے رکن ہیں یا نہیں۔

یہ بھی  پڑھیں: جو بائیڈن خفیہ تنظیم ’فری میسنری‘ میں شامل ہوگئے، یہ پُراسرار تنظیم کیا ہے؟

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فری میسنز کی تنظیم گرینڈ لاج آف انگلینڈ نے نئی پالیسی کے نفاذ کو روکنے کے لیے ہائیکورٹ سے ہنگامی حکمِ امتناع (انجکشن) کی درخواست دائر کی۔

فری میسنری کے اراکین۔

میٹ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ نئی پالیسی شفافیت بڑھانے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ اور جانبداری سے متعلق عوامی خدشات کا ازالہ کرنا ہے۔

فری میسنری ایک صدیوں پرانی برادرانہ تنظیم ہے جو اپنے علامتی رسوم اور ارکان کے درمیان باہمی تعاون کے باعث جانی جاتی ہے۔ اس تنظیم کی رکنیت کے لیے کسی اعلیٰ طاقت پر ایمان رکھنا ضروری ہے، تاہم اس کا تعلق کسی مخصوص مذہب سے نہیں ہوتا۔

یہ پالیسی رواں ماہ کے آغاز میں متعارف کرائی گئی تھی اور اس کا پس منظر سنہ 2021 کی ایک تحقیق ہے جو ڈینیئل مورگن کے غیر حل شدہ قتل کیس کے بعد سامنے آئی تھی۔ اس تحقیق میں پولیس کے اندر شفافیت اور احتساب سے متعلق کئی سفارشات کی گئی تھیں۔

 

دوسری جانب فری میسنز نے اس فیصلے کو امتیازی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالتی نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے اور ہائیکورٹ سے پالیسی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیے: سفید دم والے نایاب عقاب کہاں گئے؟ برطانوی پولیس گمشدہ پرندوں کا سراغ لگانے میں مصروف

میٹ پولیس کا مؤقف ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے اور اس پالیسی کا مقصد کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث جاری ہے جہاں کچھ افراد پولیس کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر ضروری اور متنازع قرار دے رہے ہیں۔

ڈینیئل مورگن کون تھے؟

ڈینیئل مورگن برطانیہ میں ایک نجی تفتیش کار (پرائیویٹ ڈیٹیکٹو) تھے جنہیں سنہ 1987 میں لندن میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کا قتل برطانیہ کے طویل ترین اور متنازع غیر حل شدہ کیسز میں شمار ہوتا ہے جس کی کئی بار تحقیقات کی گئیں لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے پاکستانی یا کوئی اور؟ برطانوی پولیس نے ایلون مسک کو آئینہ دکھا دیا

بعد میں ہونے والی سرکاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ اس کیس کی تفتیش کے دوران میٹروپولیٹن پولیس میں بدعنوانی، مفادات کے ٹکراؤ اور شفافیت کی کمی کے سنگین خدشات پائے گئے۔ سنہ 2021 میں شائع ہونے والی ایک آزاد انکوائری رپورٹ نے پولیس کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی اور اسی رپورٹ کی سفارشات کی بنیاد پر پولیس میں شفافیت بڑھانے کے لیے مختلف اصلاحات تجویز کی گئیں جن میں فری میسن جیسے خفیہ گروپس سے وابستگی ظاہر کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

فری میسن تنظیم کیا ہے؟

فری میسنز۔

فری میسن ایک صدیوں پرانی برادرانہ تنظیم ہے جس کی بنیاد یورپ میں رکھی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد اخلاقی اقدار، باہمی بھائی چارے، فلاحی سرگرمیوں اور ذاتی کردار سازی کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے۔ فری میسنری کسی سیاسی جماعت یا مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوتی تاہم اس کی رکنیت کے لیے کسی اعلیٰ طاقت یا خدا پر ایمان رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یہ تنظیم اپنی علامتی رسومات، خفیہ نشانوں اور اندرونی طریقۂ کار کی وجہ سے اکثر عوامی توجہ اور بحث کا مرکز رہی ہے۔

اس تنظیم کے ارکان مختلف مذاہب، پیشوں اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیا کے کئی ممالک میں اس کے لاجز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: باجوں نے برطانوی پولیس کو بھی پریشان کردیا

فری میسنری تنظیم کی خواتین رکن۔

اگرچہ فری میسنز کا کہنا ہے کہ ان کی سرگرمیاں زیادہ تر فلاحی اور سماجی نوعیت کی ہوتی ہیں تاہم بعض ممالک میں شفافیت اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں خاص طور پر جب سرکاری اداروں سے وابستہ افراد اس تنظیم کے رکن ہوں۔

برطانوی پولیس کا مؤقف

برطانوی میٹروپولیٹن پولیس کا مؤقف ہے کہ فری میسن جیسی خفیہ نوعیت کی تنظیموں میں پولیس افسران کی رکنیت سے مفادات کے ٹکراؤ اور جانبداری کے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔

فری میسنری سے منسوب کیا جانے والا نشان۔

پولیس کے مطابق عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایسی تنظیموں کے ارکان ایک دوسرے کو غیر رسمی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں جس سے انصاف اور شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

میٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والی تحقیقات، خصوصاً ڈینیئل مورگن قتل کیس سے متعلق انکوائری، میں پولیس کے اندر شفافیت کی کمی اور اندرونی روابط پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

اسی تناظر میں پولیس نے یہ پالیسی متعارف کرائی ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پولیس افسران کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کسی خفیہ وابستگی سے متاثر نہ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان