وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت وقتی اور مصنوعی معاشی نمو کے بجائے ایسی پائیدار ترقی چاہتی ہے جو ملک کی معیشت کو طویل مدت میں مستحکم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کنزمپشن کے ذریعے امپورٹس کھول کر بظاہر زیادہ جی ڈی پی گروتھ تو حاصل کر لی گئی، لیکن اس کے نتیجے میں ملک کو شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:احسن اقبال کے بعد شیر افضل مروت کو بھی لائیو پروگرام روکنا پڑا، ویڈیو کس کی وجہ سے بند کی گئی؟
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنا بذاتِ خود مشکل نہیں، جیسا کہ 2022 میں مصنوعی طور پر 6 فیصد گروتھ حاصل کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس گروتھ کی قیمت یہ چکانی پڑی کہ اگلے کئی برسوں تک معیشت زخمی رہی اور عوام کو بدترین مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر اتنے مضبوط نہیں تھے کہ بڑھتی ہوئی امپورٹس کا بوجھ برداشت کر سکتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسی تجربے کی روشنی میں حکومت اب انتہائی محتاط معاشی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ موجودہ حکمتِ عملی کے تحت گروتھ کو برآمدات، ترسیلاتِ زر اور دیگر فارن ایکسچینج ان فلوز جیسے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایسی گروتھ نہیں چاہتی جو ایک دو سال کے لیے تیز رفتار ہو اور پھر اچانک کریش کر جائے۔
احسن اقبال نے زور دیا کہ ملک کی ترقی کو اس کی فارن ایکسچینج کمانے کی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے حکومت ایک محتاط اور دانشمندانہ گروتھ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم ایل ون، کراچی روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز کب ہوگا؟ احسن اقبال نے خوشخبری سنا دی
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، جس کے اپنے استحکامی تقاضے ہیں، لہٰذا حکومت کی تمام تر توجہ اصلاحات پر مرکوز ہے تاکہ آنے والے برسوں میں پائیدار ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔














