بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رشوت طلبی، بدسلوکی اور تحقیر آمیز رویے کے خلاف ایک محنت کش ڈرائیور کا انتہائی قدم شہر بھر میں بحث کا موضوع بن گیا، جہاں ایک لوڈر رکشہ (زرنج) ڈرائیور نے احتجاجاً اپنا واحد ذریعہ روزگار نذرِ آتش کردیا۔
یہ واقعہ گزشتہ روز کوئٹہ کے مصروف علاقے ایئرپورٹ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ٹریفک پولیس کی جانب سے بغیر اجازت اور بغیر پرمٹ چلنے والے لوڈر رکشوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی۔
مزید پڑھیں: نصیبو لعل کا گانا اونچی آواز میں چلانے پر رکشہ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ، ’سزا کیا ہوگی‘
متاثرہ ڈرائیور کی شناخت عبدالنبی مینگل کے نام سے ہوئی ہے، جو روزانہ مزدوری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا گزر بسر کرتا تھا۔
کوئٹہ بلوچستان ۔ 📢
بی اے مال شاپنگ سینٹر کے سامنے ٹریفک پولیس والوں کی بدتمیزی اور رشوت طلب کرنے کی وجہ سے ایک رکشہ ڈرائیور نے اپنا لوڈر رکشہ جلا دیا اور کہہ رہا ہے کہ پولیس والے مجھ سے رشوت طلب کرتے ہیں اور بدتمیزی بھی کرتے ہیں
حکومت بلوچستان صرف دعویٰ تک محدود ہو چکی ہے اپنے… pic.twitter.com/Fv4RhKPngx— Jawad Ali (@Pakjawadali5) January 7, 2026
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق کارروائی چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کوئٹہ اور کمشنر کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی تھی، کیونکہ زرنج چلانے پر پابندی عائد ہے۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ عبدالنبی گزشتہ 4 سال سے غیر قانونی طور پر زرنج چلا رہا تھا اور اس کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
تاہم عینی شاہدین اور متاثرہ ڈرائیور کے مطابق کارروائی کے دوران ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے نہ صرف سخت اور تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا بلکہ مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔
عبدالنبی مینگل کے مطابق ایک ہزار روپے نہ دینے پر اہلکار نے اسے تھپڑ مارا اور زرنج تھانے بند کرنے کی ہدایت دی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا اور انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹریفک پولیس، ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئے اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ کی متاثرہ رکشہ ڈرائیور سے ملاقات، گلے سے لگا لیا
وزیراعلیٰ نے متاثرہ ڈرائیور عبدالنبی مینگل سے ملاقات کی، اسے گلے لگا کر دلاسہ دیا اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کل کوئٹہ میں رکشہ جلانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پولیس اہلکار کو معطل کر دیا جس نے الٹا رکشہ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جبکہ اس غریب رکشہ ڈرائیور کو اپنے ساتھ بلا کر انصاف کی یقین دہانی بھی کرائی pic.twitter.com/bkv3I5Qu5t
— Abdul Kareem khan kakar (@Kareemkakarkm) January 7, 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان نے متاثرہ ڈرائیور کے مکمل معاشی نقصان کے ازالے کے لیے ںئے لوڈر رکشے کی خریداری کی خاطر فوری مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا تاکہ عبدالنبی مینگل دوبارہ اپنے روزگار کا آغاز کر سکے اور اس کے اہلِ خانہ کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بلوچستان ہر سطح پر محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑی ہے۔
ٹریفک پولیس اہلکار کو فوری معطل کرنے کا حکم
وزیراعلیٰ نے واقعے میں ملوث ٹریفک پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرنے اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ عوام کے ساتھ بدسلوکی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقت کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار عوام کے خادم اور عوام کے وقار کے محافظ ہیں۔
شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، ڈی آئی جی
دوسری جانب ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے بجلی روڈ تھانے میں عبدالنبی مینگل سے ملاقات کے دوران کہاکہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی اہلکار کو شہریوں کے ساتھ بدتمیزی یا اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
ایس ایس پی ٹریفک، ایس پی قائد آباد اور ایس پی ٹریفک کی انکوائری کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار اے ایس آئی عبدالرؤف کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ڈرائیور کو تھپڑ مارنے کے الزام میں فوری طور پر معطل کردیا گیا، جبکہ واقعے کی مکمل اور شفاف محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: کشمیری رکشہ ڈرائیور جو وطن سے محبت کا اظہار انوکھے انداز میں کرتا ہے
ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہاکہ بلوچستان پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور کمیونٹی پولیسنگ اور عوام دوست رویے کے فروغ سے ہی پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ محنت کش طبقہ معمولی واقعات پر بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، برداشت اور ہمدردی کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔












