وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے بھی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں اور حکومت آج بھی ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق وزارتِ پارلیمانی امور نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مضبوط اور مؤثر رابطہ قائم کر رکھا ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کی تجاویز اور تحفظات براہ راست وزیراعظم تک پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: وی ایکسکلیوسو: پی ٹی آئی پر فوری پابندی کا کوئی پلان نہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر نے کہا کہ مذاکرات کو سیاست کا لازمی حصہ اور قومی مسائل کے مستقل حل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت کمیٹیوں کو خصوصی مینڈیٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی مؤثر نمائندگی کر سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کھلی اور مثبت پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ اختلافات اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کا کردار صرف شکایات اور مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی اور عوامی نمائندگی کے مؤثر ذرائع بھی فراہم کرتی ہے، جس سے ملک میں جمہوری عمل، سیاسی استحکام اور شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ مختلف وزارتوں میں نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک وزارتوں کی مکمل کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی، جس کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے بھی رکھی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کے دعوے حقیقت سے عاری ہیں، طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر کے مطابق اس رپورٹ کا مقصد وزارتوں میں خود احتسابی کے نظام کو مضبوط بنانا اور وزرا کو اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنانا ہے، جبکہ ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کے واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں۔














