سابق بنگلہ دیشی قومی کرکٹ کپتان تمیم اقبال کے حامیوں نے چٹاگانگ میں انسانی زنجیر کی شکل میں مظاہرہ کیا، احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ڈائریکٹر ایم نظام الاسلام کے متنازعہ بیان کی شدید مذمت کی۔
مظاہرین نے عوامی معافی کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر معافی نہ دی گئی تو نظام الاسلام کو پورٹ سٹی میں ’ناپسندیدہ‘ قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
مظاہرہ چٹاگانگ کے علاقے قاضی دیوری میں ہوا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ نظام الاسلام کے بیان نے تمیم اقبال کی شہرت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو بنگلہ دیش کے عظیم کرکٹرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں نظام الاسلام نے مبینہ طور پر تمیم اقبال کو ’ہندی ایجنٹ‘ قرار دیا، جسے مظاہرین نے انتہائی توہین آمیز اور ناقابل قبول قرار دیا۔
مظاہرین نے بی سی بی سے مطالبہ کیا کہ نظام الاسلام کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ احتجاجی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر معافی نہ دی گئی تو چٹاگانگ بھر میں مزید مظاہرے کیے جائیں گے۔
سابق نائب صدر جماعتی طلبہ دل کے شہر یونٹ، سورب پریا پال، نے کہا کہ تمیم اقبال ’چٹاگانگ کا فخر‘ اور قومی اثاثہ ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر بنگلہ دیش کی شاندار نمائندگی کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاکستان، بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی کے لیے تیار
انہوں نے کہا کہ بی سی بی کے ڈائریکٹر کا حق نہیں کہ وہ کھیل کے لیجنڈ کے بارے میں ایسے نازیبا بیانات دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستعفی ہونا ہی واحد قابل قبول حل ہے۔
اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹ موومنٹ کے سابق کنوینر رضاور رحمان نے کہا کہ تمیم اقبال کو’ہندی ایجنٹ‘ کہنا صرف کرکٹر کی توہین نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل میں اس قسم کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔
مظاہرے کے دوران حامیوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے: ’تمیم قومی ہیرو ہیں‘ اور ’تمیم چٹاگانگ کا فخر ہیں۔‘
تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب تمیم اقبال نے بھارت میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میچ میں بنگلہ دیش کی شرکت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ مستقبل کے پیش نظر بی سی بی کے فیصلے ہونے چاہئیں۔
کچھ ہی دیر بعد نظام الاسلام نے سوشل میڈیا پر تمیم اقبال کے بیان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایک اور ’ثابت شدہ ہندی ایجنٹ‘ سامنے آ گیا، جسے بعد میں آن لائن وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا اور سخت ردعمل پیدا ہوا۔
کرکٹ کمیونٹی کا ردعمل
متعدد موجودہ اور سابق قومی کرکٹرز نے اس بیان کی مذمت کی۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر تاجل اسلام نے کہا کہ وہ بورڈ کے افسر کی زبان سن کر “حیران” ہیں اور اسے غیر پیشہ ورانہ اور کرکٹ کلچر کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے عوامی معافی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
سابق قومی کپتان مومنل حق نے کہا کہ یہ بیان بالکل ناقابل قبول اور قومی کرکٹ برادری کے لیے ذلت آمیز ہے اور بی سی بی سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
قومی ٹیم کے فاسٹ بولر تسکین احمد نے کہا کہ اس قسم کے بیانات بنگلہ دیش کرکٹ کے مفاد میں نہیں ہیں اور امید ظاہر کی کہ حکام مستقبل میں زیادہ ذمہ داری سے کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا قومی ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت
کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے بی سی بی کو باقاعدہ احتجاجی خط بھیجا، جس میں کہا گیا کہ وہ اس بیان سے ’حیران، ششدر اور غصے میں ہیں‘۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ 16 سال کی بین الاقوامی خدمات رکھنے والے کھلاڑی کے بارے میں اس طرح کے بیانات دینا بدنام کن ہے اور بورڈ کے افسران کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔
اتوار کی رات تک بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس بڑھتی ہوئی تنازعے پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا۔











