چیئرمین پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت بانی سے ملاقات سے مشروط کر دی

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ پارٹی بانی سے ملاقات کے بعد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے نئے قوانین اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اجلاس میں شرکت کا طریقہ کار واضح ہونے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کے لیے محمود اچکزئی اگر عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے ہٹے تو بھی قبول ہوگا، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ممبران گزشتہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ 26ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات تھے۔ تاہم کمیٹی میں شامل ہونے کے باوجود پارٹی اپنا موقف پیش کرنے کے لیے تیار تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہوگا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کس انداز میں شرکت کی جائے۔ گوہر نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور نئی عدالت بننے کے بعد بانی سے ملاقات نہیں ہوئی، اور یہ ملاقات اگلے اقدامات کی بنیاد ہوگی۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اسپیکر قومی اسمبلی کے صوابدیدی اختیار میں تھا اور یہ نوٹیفکیشن اسی کی بنیاد پر جاری ہوا۔

گوہر نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو اور جو بھی یہ کروائے، بہتر ہوا۔ ہم اسپیکر کے مشکور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹی پی دہشتگرد جماعت، اس معاملے پر اداروں کے مؤقف کے ساتھ ہیں، بیرسٹر گوہر

سیینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے بارے میں پوچھے جانے پر گوہر نے بتایا کہ آج یا کل نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا ہے اور دونوں کا ہونا بہتر ہے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے دیگر کمیٹیوں کی طرح جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے، لیکن بانی سے ملاقات کے بعد مستقبل میں شرکت کے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا غزہ امن کمیٹی پر مؤقف

صحافیوں کے سوال پر کہ غزہ امن کمیٹی کا دعوت نامہ وزیر اعظم کو بھیجا گیا ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور عالمی سطح پر مسلم امہ بھی یہ سمجھتی ہے کہ فلسطین کے لیے ایک دائمی حل نکلنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر فیصلہ لینا ہوگا اور مسلم امہ کے نقطہ نظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں جب یہ معاملہ آئے گا، تب پی ٹی آئی کی طرف سے اس کی حمایت یا حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے لیے حل تلاش کرنا عالمی انصاف اور امن کے فروغ کے لیے ضروری ہے اور پاکستان اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کا پابند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی تاکہ قانونی اور سفارتی طریقے سے مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ ہموار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی مالیاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

ترک اپوزیشن پارٹی کے میئر اردال بشکچی اوغلو کرپشن کے الزام میں گرفتار

پاکستان کو وار رسک انشورنس فہرست سے نکالنے کا فیصلہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم

لائیودہشتگردوں کے لیے اب کوئی رعایت نہیں، یا ہتھیار ڈالیں یا آپریشن کا سامنا کریں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘