چلی کے صدر گیبریل بورک نے ملک کے جنوبی حصے میں 2 خطوں نبولے اور بیو بیو میں ریاستی آفت کا اعلان کر دیا ہے، جہاں بھیانک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
چلی کی جنگلاتی ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح تک ملک بھر میں درجنوں آتشزدگی کے واقعات چل رہے تھے، جن میں سب سے زیادہ شدید آگ نبولے اور بیو بیو کے علاقوں میں لگی۔ یہ علاقے دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہانگ کانگ میں رہائشی ٹاورز میں خوفناک آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 55ہوگئی
صدر بورک نے کہا، ‘سنگین جنگلاتی آگ کے پیش نظر، میں نے نبولے اور بیو بیو کے علاقوں میں ریاستی آفت کا اعلان کیا ہے۔ تمام وسائل دستیاب ہیں۔’
صدر نے متاثرہ علاقوں کے میئرز کے ساتھ ملاقات کے بعد بتایا کہ آگ کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
چلی کی ہنگامی صورتحال ایجنسی کے مطابق تقریباً 250 گھر تباہ ہو چکے ہیں اور متعدد دیہات و بستیاں خطرے میں ہیں۔ حکومت نے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی: عوامی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائنز قائم
حکام کے مطابق شدید ہوائیں اور بلند درجہ حرارت آگ کے پھیلاؤ کو بڑھا رہے ہیں اور آگ بجھانے والے اہلکاروں کے لیے حالات مشکل بنا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چلی اور ارجنٹائن میں اس سال کے آغاز سے شدید گرمی کی لہریں آئیں ہیں، جس کی وجہ سے جنگلات میں آگ بھڑکی، جبکہ ارجنٹائن کے پیٹاگونیا علاقے میں بھی حال ہی میں آگ لگی تھی۔












