وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی دعوت اچھی بات ہے، اللہ نے پاکستان کو ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت خوش آئند ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی
ان کے مطابق غزہ کے مستقبل سے متعلق جو بھی روڈ میپ تشکیل دیا جائے گا، اس میں پاکستان کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے پر 2 ریاستی حل پر عالمی سطح پر اتفاق رائے موجود ہے اور یہ موقع پاکستان کو فراہم کرتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آزادی، حقوق اور نجات کے لیے مضبوط آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اس معاملے پر بھرپور مؤقف اختیار کریں گے۔
پاکستان کی جانب سے فوج بھیجنے سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ایران کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات قابلِ رشک ہیں۔
ان کے مطابق ایران کے عزائم کسی کے لیے خطرہ نہیں اور پاکستان کی حمایت اس بات پر مبنی ہے کہ ایران کو محفوظ رہنا چاہیے، اسرائیل ایسا ملک ہے جس سے خطے کے متعدد ممالک کو خطرات لاحق ہیں۔
پاک سعودی دفاعی معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے کہ اس دفاعی معاہدے میں کسی تیسرے ملک کو شامل کرنا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ یا کوئی اور ملک اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے اور اسلامی ممالک کو اجتماعی دفاع کے لیے وسیع تر دفاعی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینا بڑی کامیابی ہے، طاہر اشرفی
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔














