امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل نہیں ہوتا تو فرانس کی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کی پاکستان کو غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی دعوت، وزیر دفاع نے آفر کو سنہری موقع قرار دیدیا
یہ اعلان ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے حوالے سے جاری کیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر میکرون کا ایک نجی پیغام بھی شیئر کیا۔
Donald J. Trump Truth Social Post 12:47 AM EST 01.20.26
President Trump posts a screenshot text from President Macron of France, inviting him to dinner to discuss a variety of things such as Iran and Greenland.
“Note from President Emmanuel Macron, of France:” pic.twitter.com/nipUKDYnWX
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) January 20, 2026
اس پیغام میں میکرون نے ایران اور شام کے معاملات پر ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کیا اور گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف پر حیرت کا اظہار کیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس نے ٹرمپ کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بورڈ کا دائرہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ اس سے آگے کے عالمی تنازعات پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی دوران فرانس نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کے مؤقف پر طنزیہ ردعمل بھی دیا ہے۔
🇺🇸🇫🇷TRUMP: IF FRANCE WON’T JOIN BOARD OF PEACE, I’LL PUT A 200% TARIFF ON THEIR WINE
“Well, nobody wants him because he’s going to be out of office very soon.
That’s all right.
What I’ll do is if they feel hostile, I’ll put a 200% tariff on his wines and champagnes and he’ll… pic.twitter.com/07wQZoeoNs
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 20, 2026
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مؤقف کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے متعدد مثالیں دی ہیں، جبکہ اسکاٹ بیسنٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے آرکٹک خطے میں روسی خطرات کے پیش نظر اقدامات کی ضرورت کو درست قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیاں ’ناقابل قبول اور غیر مؤثر‘ ہیں اور اس طرح کے دباؤ سے فرانس کی خارجہ پالیسی متاثر نہیں ہوگی۔














