فلمی دنیا میں آسکر ایوارڈ جیتنا ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مشہور سنہری مجسمہ آخر تیار کیسے کیا جاتا ہے اور کن مراحل سے گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’رومیو اینڈ جولیٹ‘ کی اسٹار اداکارہ اولیویا ہسی انتقال کرگئیں
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق آسکر ٹرافی کے ڈیزائن پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک نائٹ (سپاہی) کو دکھایا گیا ہے جو تلوار تھامے فلم کی ریل پر کھڑا ہے۔ اس منفرد ڈیزائن کو ایم جی ایم کے آرٹ ڈائریکٹر سیڈرک گبنز نے تخلیق کیا جبکہ لاس اینجلس کے فنکار جارج اسٹینلے نے اسے مجسمے کی شکل دی۔
اگرچہ آسکر ٹرافی سنہری دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ مکمل طور پر سونے سے نہیں بنتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس مجسمے کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بدلتا رہا ہے۔
آسکر ٹرافی میں استعمال ہونے والا مواد
جب سنہ 1922 میں اکیڈمی ایوارڈز کا آغاز ہوا تو اس وقت آسکر ٹرافی سونے کی تہہ چڑھے کانسی سے تیار کی جاتی تھی۔
تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران دھاتوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی جس کے باعث اکیڈمی کو عارضی طور پر رنگ شدہ پلاسٹر سے ٹرافیاں بنانی پڑیں
مزید پڑھیے: آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم ’اوپن ہائمر‘ کی کہانی کیا ہے؟
بعد ازاں 1982 میں ٹرافی کی تیاری کے لیے برٹانیہ میٹل استعمال کیا جانے لگا۔
تقریباً 3 دہائیاں گزرنے کے بعد اکیڈمی نے دوبارہ اپنے اصل انداز کی طرف واپسی کرتے ہوئے سونے کی تہہ چڑھے کانسی کو ہی مستقل مواد کے طور پر اختیار کر لیا۔
کیا آسکر ووٹرز تمام فلمیں دیکھتے ہیں؟ اس حوالے سے مختصر جواب ہے: نہیں۔ تاہم، نامزدگی کے دوسرے مرحلے میں ووٹرز کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ مخصوص کیٹیگریز میں شامل تمام شارٹ لسٹ فلمیں دیکھیں۔
ان کیٹیگریز میں بہترین اینیمیٹڈ شارٹ فلم، بہترین بین الاقوامی فلم، بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم شامل ہیں۔
اگلی آسکر تقریب
98ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب 15 مارچ کو منعقد کی جائے گی جس میں ایک بار پھر دنیا بھر کی فلمی شخصیات اس سنہری مجسمے کو حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوں گی۔














