بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2025 میں بھارتی شہریوں کا غیر قانونی طور پر امریکا کی سرحد عبور کرنے کا رجحان ایک سنگین عالمی سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے، جہاں امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) کے اعداد و شمار میں ظاہر ہے کہ سال بھر میں تقریباً ایک بھارتی شہری ہر 20 منٹ میں غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں گرفتار ہوا۔ اس مسئلے نے نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سرحدی نگرانی اور سیکیورٹی حکمت عملیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، ملک بھر میں شدید احتجاج
دی اکانومسٹ ٹائم کے مطابق2025 کے دوران سی بی پی نے 23,830 بھارتی شہریوں کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران روکا، یہ تعداد 2024 میں گرفتار ہونے والے 85,119 سے کم ہے، تاہم بھارتی شہری اب بھی غیر قانونی امیگریشن کے بڑے گروپوں میں شامل ہیں۔
بیشتر گرفتار شدگان اکیلے بالغ افراد تھے جو بہتر روزگار اور مواقع کی تلاش میں خطرناک راستے اختیار کر رہے تھے، جبکہ بعض غیر ہمراہ بچوں کو بھی سرحد کے قریب پایا گیا۔

دی اکانومسٹ ٹائم ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت امیگریشن قوانین اور سرحدی نگرانی کے باوجود غیر قانونی امیگریشن کے رجحانات ختم نہیں ہوئے، اور معیشتی مواقع اور بہتر مستقبل کی امید بھارتیوں کو خطرناک اور غیر روایتی راستوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔
اس صورتحال نے امریکا کی اندرونی امیگریشن پالیسیوں، سرحدی سیکیورٹی اقدامات، اور انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف جاری کوششوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ قانونی اور غیر قانونی نظام میں توازن برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔












