معروف صحافی و تجزیہ کار طارق چوہدری نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی گلگت بلتستان کے عوام کے جائز مطالبات ہیں، اس پر پیشرفت ہونی چاہیے۔
وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے طارق چوہدری نے کہاکہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ متوقع ہے، تاہم کسی ایک جماعت کی واضح برتری کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟
ان کے مطابق گلگت بلتستان کا ہر حلقہ اپنی الگ سیاسی ڈائنامکس رکھتا ہے جہاں کہیں برادری، کہیں مذہبی پس منظر، کہیں سیاسی وابستگی اور کہیں ترقیاتی کام ووٹرز کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایسی جماعتیں ہیں جن کی جڑیں مضبوط ہیں۔ اگرچہ بعض حلقوں میں شخصیات، دھڑے اور برادریاں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود سیاسی جماعتوں کی اہمیت موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ 1994 میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں سیاسی بنیادوں پر نظام کا آغاز ہوا، بعد ازاں 2009 میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت باضابطہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔
طارق چوہدری نے کہاکہ 2015 میں مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران وہاں بھی ن لیگ کی حکومت بنی جبکہ 2020 میں تحریک انصاف کو مکمل اکثریت حاصل نہ ہو سکی اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت بنانا پڑی۔
انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام ملک کے مختلف شہروں میں تعلیم اور روزگار کے باعث دیگر صوبوں کے ماڈلز دیکھتے ہیں، اس لیے ووٹرز کے سامنے کراچی، لاہور اور پشاور جیسے شہروں کی کارکردگی بطور مثال موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ انتخابی مہم کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودگی زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی اہم رہنما انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو، نواز شریف، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام اور دیگر رہنما گلگت بلتستان میں سرگرم ہیں۔
طارق چوہدری نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کی اپنی ضروریات، خواہشات اور مطالبات ہیں، اور وہاں کے لوگ ایسی جماعت کو ووٹ دیں گے جو انہیں شناخت، ترقی اور مسائل کا حل دے سکے۔
انہوں نے کہاکہ خطے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر وہاں انفراسٹرکچر، سیاحت اور توانائی کے شعبے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ مرکزی جماعتوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور وہاں کسی علیحدگی پسند جماعت کو پذیرائی نہیں ملی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ قومی دھارے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طارق چوہدری نے کہا کہ انسانی حقوق کی آڑ میں دہشتگردی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہاکہ جعفر ایکسپریس، چینی تنصیبات اور دیگر مقامات پر حملے کرنے والے عناصر دہشتگرد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کو بیرونی فنڈنگ اور سہولت کاری حاصل ہے اور ماضی میں دہشتگردوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے مواقع ملتے رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ پاکستان میں جب بھی سفارتی سطح پر سرگرمیاں بڑھتی ہیں، بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
طارق چوہدری نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے سیاسی اور پارلیمانی راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ صوبے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہے۔
انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام میں حقوق کے حصول کا مؤثر ذریعہ سیاسی نمائندگی ہے، بندوق نہیں۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہاں سیاسی ابتری پائی جا رہی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندر مختلف طاقت کے مراکز موجود ہیں جس سے صوبائی حکومت کے معاملات متاثر ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں بدامنی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے پیش نظر صوبائی حکومت کو امن و امان، پولیس کی استعداد کار اور گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔
بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طارق چوہدری نے کہاکہ عوام مہنگائی، ٹیکسز اور بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے آنے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
انہوں نے کہاکہ تنخواہوں میں اضافہ، ٹیکسوں میں کمی اور بجلی کے بلوں میں شامل اضافی بوجھ کم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے عسکری اور سفارتی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم معاشی کارکردگی بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ عوامی مسائل کا مستقل حل مضبوط معیشت سے ہی ممکن ہے۔











