وی نیوز رپورٹرز: فیصل کمال پاشا، لقمان شاہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے دیگر مرکزی رہنماؤں سمیت سپریم کورٹ میں دھرنا دیدیا ہے۔ ان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات 10 منٹ جاری رہی تاہم ان کا اصرار ہے کہ وہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے جواب ملنے تک یہیں بیٹھے رہیں گے۔
دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ سے چلے گئے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی میڈیا سے گفتگو بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جب بیماری لاحق ہوئی تو جیل میں اس کا معائنہ ہوا ہوگا۔ تاہم اس معائنے کا فیملی اور وکلا کو نہیں بتایا گیا۔ بات اڈیالہ سے پمز تک پہنچ گئی لیکن اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا۔ اور حکومت 5 دن اس چیک اپ سے انکاری رہی۔
یہ بھی پڑھیے مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی تشویش ہے کہ پمز ہسپتال میں کوئی ریٹینا سپیشلٹ ہے ہی نہیں۔
احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری ہمارے لیڈر نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہے۔ جو بھی فیصلہ وہ کریں گے، PTI ساتھ دے گی!
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وی نیوز سے خصوصی انٹرویو pic.twitter.com/czPJjQYMfK— WE News (@WENewsPk) January 30, 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وی نیوز سے خصوصی گفتگو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کو بسنت کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پہیہ جام بھی کیا جائے گا، جبکہ پارٹی کی جانب سے احتجاج اور مذاکرات دونوں آپشنز کو بیک وقت کھلا رکھا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس حوالے سے واضح حکمتِ عملی طے کر دی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے 8 فروری کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے سوال پر کہا کہ پارٹی کا ایک مجموعی پلان موجود ہے، تاہم بعض تفصیلات جان بوجھ کر خفیہ رکھی جاتی ہیں اور ہر بات پہلے سے ظاہر نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو وقت آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
رپورٹر: 8 فروری کو پنجاب میں بسنت ہے اور آپ نے پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے، کیا کہیں گے؟
وزیراعلیٰ کے پی: پتنگ اُڑا کر ہم قیدی نمبر 804 کا نام لیں گے اور گھروں میں بھی بیٹھیں گے۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وی نیوز سے خصوصی انٹرویو pic.twitter.com/Cylj8OYEXq— WE News (@WENewsPk) January 30, 2026
بسنت اور پہیہ جام ایک ہی دن ہونے سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ بسنت منانا اور احتجاج کرنا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ان کے مطابق پتنگ بازی کے ذریعے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا اور اسی دن قیدی نمبر 804 کے حق میں نعرے بھی لگائے جائیں گے، جبکہ گھروں میں بیٹھ کر پہیہ جام کی کال پر بھی مکمل عملدرآمد ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے بانی عمران خان کا نام ہر صورت لیا جائے گا اور احتجاجی سرگرمیاں پرامن مگر مؤثر ہوں گی۔
۔
تیراہ کے معاملے پر وفاقی حکومت سے پریس کانفرنس کروائی گئی ہے، اور انہوں نے یو ٹرن لے لیا ہے! وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وی نیوز سے خصوصی انٹرویو pic.twitter.com/KVC2xLirf7
— WE News (@WENewsPk) January 30, 2026
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ مذاکرات اور احتجاج دونوں کی ذمہ داری پارٹی قیادت نے مخصوص رہنماؤں کو سونپی ہے۔
’اگر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا تو بات چیت ہوگی، اور اگر احتجاج کی کال دی گئی تو پاکستان تحریکِ انصاف پوری قوت کے ساتھ سڑکوں پر نکلے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی تمام معاملات، بشمول سیاسی اور دیگر حساس امور، پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، ’جتنے بھی معاملات ہیں، ان سب پر انشاءاللہ بیٹھوں گا۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی سرگرمیاں فیصلہ کن ہوں گی اور 8 فروری کو ہونے والے احتجاج اور پہیہ جام کے ذریعے عوامی دباؤ کو مزید منظم کیا جائے گا۔
رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات میں کیا ہوا؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ سمیت سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی اور بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
عمران خان سے ملاقات کے لیے سلمان اکرام راجہ اور لطیف کھوسہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملے ہیں۔ ان کے جواب کے بعد اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا!وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وی نیوز سے خصوصی انٹرویو pic.twitter.com/qbP2qjVHya
— WE News (@WENewsPk) January 30, 2026
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بانی کے آنکھ کے آپریشن کو چھپایا اور ملاقات کی اجازت نہیں دی، جبکہ ذاتی معالج اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ رجسٹرار اور اٹارنی جنرل نے ڈاکٹر کو ملاقات کے لیے بھیجنے کی یقین دہانی کرائی۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تحفظات
سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بانی کے آنکھ کے آپریشن کو چھپایا اور کل ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
ملاقات کی پابندیاں اور قانونی تحفظات
سلمان اکرم راجہ کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اہلخانہ سے اجازت کے بغیر بانی کا آپریشن غیر قانونی ہے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ سے روانہ
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات نہیں ہوسکی، تاہم رجسٹرار کے سامنے اپنے تحفظات رکھے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، اور اٹارنی جنرل و رجسٹرار نے ذاتی ڈاکٹر کو بانی سے ملاقات کے لیے بھیجنے کی یقین دہانی کرائی۔
ہمارے رپورٹر فیصل کمال پاشا کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کیے بغیر سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔













