پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اور علامہ ناصر عباس سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پولیٹیکل کمیٹی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر صحت سے متعلق کچھ بتایا نہیں جا رہا، اپوزیشن اتحاد کا اظہار تشویش
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز آج صبح سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں اور کل رات 3 بجے تک اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں اور یہ نظام فسطائیت کا بدترین نمونہ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 دن تک کہا جاتا رہا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس پاکستان اور ان کے عملے سے ملاقات ہوئی لیکن تسلی بخش جواب ابھی تک حاصل نہیں ہوا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس نظام میں کوئی انسانیت نظر نہیں آتی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ بند لفافے میں عمران خان اور ان کی بہنوں کو دے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ سامنے آئے گی تو خاندان فیصلہ کرے گا کہ کس ڈاکٹر کو دکھایا جائے اور کیا اقدام کیا جائے۔
مزید پڑھیے: عمران خان کو اسپتال لائے جانے کے حوالے سے کابینہ کو پیشگی اطلاع دینا ضروری نہیں تھی، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بہنیں اور رفقا آتے رہے اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ناحق قید اور جھوٹی سزائیں ختم کی جائیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
’یہ نظام جدوجہد کے ذریعے گرایا جائے گا‘
دوسری جانب علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اس وقت بزرگ اور خواتین سب جیلوں میں ہیں اور یہ نظام جدوجہد کے ذریعے گرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان وہ اثاثہ ہیں جو تمام صوبوں کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں۔ مظلوم کا ساتھ دینا اللہ کو پسند ہے۔
علامہ ناصر عباس نے بھی کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔














