وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دوسری انٹیلی جنس ایجنسیاں پوری طرح سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، اسلام آباد خودکش حملے جیسے بزدلانہ حملے نہ صرف قابل مذمت بلکہ قابل نفرت ہیں۔
نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ بلوچستان کے 9 اضلاع میں 12 جگہوں پر دہشتگردوں نے حملے کیے، دہشتگردوں نے نہتے لوگوں پر ظلم کیا اور لوگوں کو شہید کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکا: حملہ آور کی شناخت اور پس منظر سامنے آگیا، خواجہ آصف
رانا ثنااللہ نے کہا کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشتگرد دم دبا کر بھاگے تاہم فورسز نے پیچھا کر کے 200 کے قریب دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا ہے، ان دہشتگردوں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ فورسز کے آگے کھڑے ہو سکیں یا وطن عزیز کے ایک انچ پر اپنی رٹ قائم کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی ایک گھٹیا کوشش تھی کہ وہ اپنے غیر ملکی آقاؤں سے زیادہ فنڈنگ لے سکیں، 2010 تک یہ دہشتگرد لاہور تک پہنچے ہوئے تھے، وہاں بھی دھماکے ہوتے تھے، ہم نے ایک ایک دن میں 200 سے 250 ڈیڈ باڈیز بھی اٹھائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے دہشتگرد بیٹھے ہیں، وہاں ان کے ٹریننگ کیمپس ہیں اور ان کو بھارت سے فنڈنگ ملتی ہے، اور وہ وہاں پلاننگ کر کے اسلام آباد خودکش حملے جیسی بزدلانہ کارروائیوں کے لیے پاکستان بھیجے جاتے ہیں، بہت سے پکڑے جاتے ہیں اور کچھ نکل جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کچہری خودکش دھماکا، اسلام آباد بار کونسل و بار ایسوسی ایشن کی مذمت، 3 روزہ سوگ کا اعلان
رانا ثنااللہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دوسری انٹیلی جنس ایجنسیاں پوری طرح سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، دہشتگردوں کو نہ پہلے کامیابی ملی ہے نہ آئندہ ملے گی، اسلام آباد جیسے واقعات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ قابل نفرت ہیں، جن سے اتنے لوگ شہید ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد چاہتے ہیں کہ قوم متحد نہ ہو، دہشتگرد یہی چاہتے ہیں کہ ہم اپنی معمولات زندگی معطل کر دیں، ہمیں ڈٹ کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا چاہیے، دہشتگردوں کے خوف سے بسنت جیسے فیسٹیول مؤخر نہیں کرنے چاہئیں، دہشتگردوں کے مقصد کو کسی طور پورا نہیں ہونے دینا چاہیے۔














