پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی طور پر خرچ پر مبنی (Consumption-led) رہی ہے۔ عام شہریوں کی روزمرہ خریداری، کھانے پینے کی اشیاء، سروسز اور دیگر اخراجات ملک میں سرمائے کی گردش کا سبب بنے اس طرز معیشت سے معاشی سرگرمیاں چلتی رہتی ہیں، لیکن اس کے لئے جو مصنوعات درکار رہیں ان کا انحصار بالواسطہ یا بلا واسطہ درآمدات پر رہا اور برآمدات کا حصہ اس کے مقابل کم ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا اور یہی تجارتی خسارہ جاری کھاتے Current Account کا باعث بنا، جس کو متوازن کرنے کے لئے ہم نے ملک پر قرضوں کا بوجھ لاد دیا، اس وجہ سے بچت اور سرمایہ کاری کی کمی رہی، لیکن اب موجودہ حکومت اس بات پر مصر نظر آتی ہے کہ پاکستان کو اب پیداوار اور برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب پیش قدمی کرنا ہو گی۔
ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ معاشی کمزوریوں کی نشاندہی اپوزیشن نہیں، بلکہ خود حکومت کر رہی ہے اور پائیدار حل کے لئے نقائص زیر بحث لائے جارہے ہیں، تاکہ توانا مشاورت سے معیشت کی درست سمت کے تعین کے ساتھ متوازن رفتار سے ترقی کی شاہراہ پر سفر جاری رکھا جا سکے۔
توانائی کے شعبے میں آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز، گردشی قرض اور انتظامی ناکامیوں پر کھل کر بات کرنا مسائل کو دبانے کے بجائے انہیں اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی غماز ہے، اسی طرح قرضوں کے بوجھ اور قرض کے پیداواری استعمال پر بحث بھی ایک مثبت رجحان ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ میں حکومت نے پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے جو واضح اقدامات کیے ہیں، ان میں آئی پی پیز کے معاہدات میں اصلاحات کا آغاز ہے، جس میں اکتوبر 2024 میں 5 آئی پی پیز (HUBCO، Lalpir Power، Saba Power، Rousch، Atlas Power) کے معاہدے ختم کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت اور عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔
دسمبر 2024 میں 17 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات ہوئے، جنہوں نے کیپسٹی پیمنٹ سے دستبرداری اختیار کی، جس سے حکومت کو 300 ارب روپے کی بچت اور صارفین کو فی یونٹ 3.50 روپے تک ریلیف ملے گا۔ اس کے علاوہ گردشی قرض کے حل کے لیے وفاقی کابینہ نے بینکنگ پلان کے تحت 1275 ارب روپے کا قرض منصوبہ منظور کیا جسے کمرشل بینکوں سے کم شرح (KIBOR – 0.9٪) پر حاصل کیا جائے گا۔
یہ قرض IPP واجبات اور پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرضے ختم کرنے کے لیے استعمال ہوگا، اور 6 سال میں 24 سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا۔ اس اقدام سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ نہیں آئے گا اور پاور سیکٹر کے مالی مسائل پر مستقل حل کی راہ ہموار ہوگی۔
اہم ترین اقدام میں برآمدی شعبے کے لیے سہولت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ ریلیف پیکج ہے، جس میں برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت، وہیلنگ چارجز اور ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح سود میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
اس کمی پر فیڈریشن پاکستان چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اسلام آباد چمبر آف کامرس اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل سمیت ملک بھر کے کاروباری طبقے نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ برآمدی شعبہ کے لئے یہ کمی برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے راہ ہموار کرنے میں بہت معاون ہو گی۔
برآمدات پر مبنی معیشت کے لئے پرائیویٹ سیکٹر بالخصوص صنعتی شعبے کو موجودہ پرانی مشینری کو جو کہ زیادہ توانائی اور زیادہ وقت میں کم پیداوار فراہم کرتی ہے۔ اس مشینری کو دور حاضر کے عین مطابق اپ گریڈ کرنا ہو گا۔ مزید برآں نئی کم توانائی سے زیادہ پیداوار دینے والی مشینری لگانے کے لئے سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
اسٹیل، پلاسٹک، کیمیکلز اور ایندھن پیداوار میں معاون کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی ملکی ضرورت کا اسٹیل، پلاسٹک، کیمیکلز اور پیداوار میں معاون دیگر میٹیریل ملک کے اندر پیدا کرنے کے لئے انتظامات کرنا ہوں گے، توانائی کے کم استعمال کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور گرین انرجی سے چلنے والے پیداواری یونٹ لگانا ہوں گے، تاکہ پیداواری عمل کے تیز ہونے پر یہ سب درآمد نا کرنا پڑے اور پیداواری لاگت کم ہونے سے ہم عالمی منڈی میں دیگر ممالک کا قیمتوں میں مقابلہ کر سکیں۔
برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فصلیں اُگائی جائیں جو نہ صرف ملکی صنعت کے لیے خام مال فراہم کریں بلکہ براہِ راست ڈالر کی آمدنی میں اضافہ کریں۔
ایسی فصلیں جنہیں ہم Strategic Export Crops کہہ سکتے ہیں، ملک کی اقتصادی سلامتی، برآمداتی مسابقت اور ٹیکسٹائل، جیسے بڑے صنعتی سیکٹر کی بنیاد ہوتی ہیں۔
کپاس اس لحاظ سے سب سے اہم ہے، کیونکہ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، اور ہر سال اربوں ڈالر کی برآمدات کا ذریعہ بنتی ہے۔
اس کے برعکس گنا اور دیگر فصلیں، اگرچہ ملکی ضرورت کے لیے اہم ہیں، مگر براہِ راست برآمدات میں حصہ نہیں ڈالتی، اور ان پر زیادہ سبسڈی یا زمین و وسائل خرچ کرنا معاشی طور پر مؤثر نہیں۔
اگر پاکستان اپنی Strategic Export Crops، خصوصاً کپاس کی پیداوار کو ترجیح دے، کسانوں کے لیے مناسب قیمت اور سہولتیں فراہم کرے، اور فصل کی پیداوار کو پانی، بیج اور تحقیق کے لحاظ سے مستحکم کرے، تو نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی Export-Led Growth حقیقی معنوں میں ممکن ہوگی۔
پاکستان کی معیشت کا رخ برآمدات کی جانب موڑنے کے لئے صرف خام مال کی پیداوار کافی نہیں، ہر شعبے میں Value Addition کی گنجائش موجود ہے، جس سے ملک کے اندر روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے اور برآمدات کی مالیت بھی بڑھتی ہے۔
مثلاً ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہم زیادہ تر خام کپاس برآمد کر رہے ہیں یا کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں مقابلے میں پیچھے ہیں۔
اسی طرح کھجور کی پیداوار کو ہی لے لیں، جو کھانے کی مختلف مصنوعات، جوس، ڈیزرٹس، اور پراسیسڈ فوڈ میں تبدیل ہو سکتی ہے؛ اس سے نہ صرف کسان اور چھوٹے کاروباری افراد مستفید ہوں گے بلکہ برآمدات بھی بڑھیں گی۔
اگر پاکستان اپنی برآمدی پالیسی میں Value Addition کو مرکزی حیثیت دے اور ہر شعبے میں خام مال سے تیار شدہ مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دے، تو Export-Led Growth کے خواب کو حقیقت میں بدلنا ممکن ہو جائے گا، اور ملک کی معیشت زیادہ مستحکم اور خود کفیل ہو گی۔
پاکستان فی الحال گلوبل ویلیو چین (Global Value Chain) میں فعال حصہ دار نہیں ہے۔ گلوبل ویلیو چین میں وہ ممالک شامل ہوتے ہیں جو عالمی مصنوعات کی تیاری کے مختلف حصوں میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر موبائل فون کی پروڈکشن دیکھیں، ایک ملک میں چپ بنائی جاتی ہے، دوسرے میں کیمرا ماڈیول تیار ہوتا ہے، تیسرے میں باڈی اسمبلی ہوتی ہے، اور آخر میں یہ سب کسی عالمی مارکیٹ میں جمع ہو کر مکمل فون بنتا ہے۔
کوئی بھی ملک پوری موبائل کو اکیلے تیار نہیں کرتا، بلکہ ہر ملک اپنے مضبوط شعبے یا جزو میں مہارت حاصل کر کے عالمی سپلائی چین کا حصہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کو بھی ہر صنعتی یا زرعی شعبے میں کسی ایک حصے کی تیاری میں مہارت حاصل کر کے اس کا پروڈکشن انفراسٹرکچر تیار کرنا چاہیے۔
مثال کے طور پر کپاس کے شعبے میں پاکستان یارن یا فیبرک تیار کر کے عالمی مارکیٹ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے سے پاکستان نہ صرف عالمی ویلیو چین کا حصہ بنے گا بلکہ برآمدات پر مبنی معیشت (Export-Led Growth) کے لیے حقیقی بنیاد بھی حاصل کرے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














