پاکستان میں سستی بجلی کے خواب کو مہنگائی کا گرہن لگ گیا ہے۔ ملک بھر میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد عام صارفین کے لیے شمسی توانائی کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
پاکستان میں فی پینل 5 ہزار روپے تک مہنگا ہو چکا ہے، اور ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے صارفین اور ڈیلرز دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق چینی سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فی پینل کی قیمت میں 5 ہزار روپے تک کا نمایاں فرق آ چکا ہے۔

نائب صدر الیکٹرانک ڈیلرز کے مطابق عالمی سطح پر چاندی (Silver) کی قیمتوں میں اضافے نے سولر پینلز کی پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، کیونکہ چاندی سولر سیلز کی تیاری میں ایک اہم جزو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
چینی سولر پینلز کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسز بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ مقامی سطح پر سولر ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ؟
نمائندہ سولر ڈیلرز ایسوسی ایشن سلیم میمن نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران سولر پینل کی فی واٹ قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں فی واٹ قیمت 40 روپے تک جا سکتی ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد مارکیٹ میں پینلز کی قیمتوں کی صورتحال کچھ یوں ہے: 580 واٹ کا پینل جو پہلے 30 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 35 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ نہ صرف پینلز بلکہ بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی گزشتہ ایک ماہ کے دوران 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس اچانک اضافے سے ان صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا جو موسم گرما کے آغاز سے قبل بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے سولر سسٹم لگوانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔










