ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ سنکلئر نے بڑھاپے کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھاپا ناگزیر نہیں بلکہ ایک قابل علاج طبی حالت ہے۔
2026 کے دبئی سمٹ میں ڈاکٹر سنکلئر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے جزوی ایپی جینیٹک پروگرامنگ کے ذریعے جانوروں میں بڑھاپے کے نشان 75 فیصد تک پلٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے لیے ترمیم شدہ یاماناکا جینز استعمال کیے گئے، جس سے نابینا جانوروں کی بینائی بھی بحال ہوئی۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے خلیوں کو دوبارہ نوجوان حالت میں لایا جا سکتا ہے، جس سے جسمانی افعال کی کارکردگی اور طاقت بحال ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں کی اہم پیشرفت، بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب
سنکلئر نے کہا، “سائنسدانوں نے جسمانی نظام کو ‘پالش’ کرنے اور خلیوں کی فعالیت بحال کرنے کے طریقے دریافت کر لیے ہیں۔ اس سے بڑھاپے کے اثرات کم ہو کر جسم دوبارہ جوان ہو سکتا ہے۔”
اب ٹیم انسانی کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کر رہی ہے تاکہ بڑھاپے کے پہلوؤں کو پلٹا جا سکے۔ یہ ٹرائلز ایپی جینیٹک پروگرامنگ تھراپیز کی جانچ کریں گے جو خلیوں کو نوجوان حالت میں واپس لانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
سنکلئر نے کہا،’ہم تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھیں گے کہ کیا ہم بڑھاپا پلٹا سکتے ہیں اور بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
انہوں نے اس تحقیق کے معاشی فوائد پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ امریکہ میں صحت مند زندگی کو صرف ایک سال بڑھانا تقریباً 38 ٹریلین ڈالر کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سنکلئر نے مزید کہا کہ بڑھاپے کی روک تھام اور اس کی پلٹائی معاشرے کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ انسانی پیداواریت ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنا معاشی اور سماجی دونوں اعتبار سے فائدہ مند ہے۔
کلینیکل ٹرائلز جلد شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم حتمی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے۔














