بھارتی یقین دہانیوں کے باوجود سرحدی اموات کا سلسلہ جاری، ڈھاکا پریشان

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ سرحد پر مسلسل ہونے والی ہلاکتوں پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ معاملہ 8 سے 11 جون تک نئی دہلی میں ہونے والی بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے درمیان 57ویں ڈائریکٹر جنرل سطح کی کانفرنس میں اہم موضوعات میں شامل ہوگا۔

بنگلہ دیشی انسانی حقوق تنظیم آئین او سالش کیندر کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران سرحدی علاقوں میں کم از کم 134 بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے 5 ماہ میں مزید 8 افراد جان سے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان

تنظیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتوں میں بارڈر سیکیورٹی فورس یعنی بی ایس ایف کی جانب سے کی گئی فائرنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

تازہ واقعہ منگل کی رات ضلع ساتکھیرا کے کلی گنج سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 بنگلہ دیشی شہری زخمی ہوئے۔

بنگلہ دیش طویل عرصے سے بھارت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ سرحدی ہلاکتوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

اگرچہ بھارتی حکام متعدد بار مہلک طاقت کے استعمال سے گریز کی یقین دہانی کرا چکے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ زمینی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

اس مسئلے پر نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب بنگلہ دیش کے مشیر برائے داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ کسی ملک کی حدود کے اندر غیر قانونی داخلے یا مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق واقعات کو لازماً سرحدی قتل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل توجہ قانونی اصطلاحات کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل

انسانی حقوق کے کارکن نور خان لیتون کا کہنا ہے کہ غیر مسلح افراد کو، ان پر عائد الزامات سے قطع نظر، قانونی تحفظ اور منصفانہ عدالتی عمل کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں کم از کم 305 بنگلہ دیشی شہری ہلاک اور 282 زخمی ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے بغیر ہونے والی ایسی ہلاکتیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تقریباً 4,100 کلومیٹر طویل سرحد پر شہریوں کی ہلاکتیں اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہائیکورٹس سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

سال میں کم از اہم ایک مرتبہ بچوں کے بغیر چھٹی منانا میاں بیوی کا حق ہے، ندا یاسر

بٹ کوائن کی قیمت میں 4 فیصد کمی، 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی

ڈھاکا ائیرپورٹ کا تھرڈ ٹرمینل فعال کرنے کے لیے 19 جولائی تک معاہدہ متوقع

بلوچستان بھر میں پیٹرول کی قلت، پمپس پر شہریوں کی لمبی قطاریں، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

امریکا ایران کشیدگی میں ثالثی کی پاکستانی کوششیں جاری، خطے میں امن کے لیے سفارتی رابطے تیز، دفتر خارجہ

صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی

گلگت بلتستان: ووٹرز کی آسانی اور انتخابی آگاہی کے لیے اقدامات کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے