ہائیکورٹس سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملک کی ہائیکورٹس نہ تو سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت، بلکہ ہر ہائیکورٹ ایک آزاد اور خودمختار آئینی عدالت کی حیثیت رکھتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ ملک میں اس وقت 5 خودمختار ہائیکورٹس موجود ہیں اور ہر ہائیکورٹ اپنے آئینی اختیارات، روسٹر، کیس مینجمنٹ اور مقدمات کی سماعت کے نظام میں آزاد حیثیت رکھتی ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) بنام ماسٹرز ٹائلز کیس میں جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

عدالت نے یہ ریمارکس اس درخواست پر دیے جس میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک مقدمہ جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ہائیکورٹس کو مقدمات کے فوری فیصلوں سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی درخواستیں اکثر دائر کی جاتی ہیں، تاہم ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط اور مناسب الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ ضلعی عدالتیں اور آرٹیکل 203 کے تحت قائم دیگر عدالتیں ہائیکورٹس کے ماتحت ہیں، تاہم ہائیکورٹس خود کسی بھی اعلیٰ عدالت کی ماتحت نہیں۔

مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے اگرچہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جا سکتے ہیں، لیکن اپیل کا حق کسی عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کی فکسیشن، روسٹر اور کیس مینجمنٹ سے متعلق اپنی پالیسیاں موجود ہوتی ہیں اور کوئی بھی ایسا حکم جو ان پالیسیوں پر حاوی ہو، ہائیکورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔

عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مقدمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے فوری سماعت کے متقاضی ہوتے ہیں، تاہم ایسے مواقع پر بھی ہدایات کے بجائے مناسب اور محتاط الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ہائیکورٹ کی آزادی متاثر نہ ہو۔

مزید پڑھیں: انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر

عدالت کے مطابق اس نوعیت کی ہدایات عموماً عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تصور کی جائے گی۔

ساتھ ہی یہ توقع ظاہر کی گئی کہ مقدمے کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے