دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں بدھ کے روز قریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 64,721 ڈالر پر آ گئی۔ یہ 28 فروری کے بعد بٹ کوائن کی کم ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ صرف بٹ کوائن تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کی منڈی میں فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جہاں حالیہ ہفتوں کے دوران ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے اور بدلتے ہوئے عالمی معاشی اشاریوں نے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ میں فہرست شدہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETF) سے مئی کے دوران سال کی سب سے زیادہ خالص سرمایہ واپسی دیکھی گئی، جس نے پہلے سے موجود ادارہ جاتی طلب کو الٹ کر رکھ دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم ڈیجیٹل اثاثوں سے نکال کر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی شعبے کے بہتر کارکردگی دکھانے والے حصص میں منتقل کر دی ہیں، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہوئی۔
ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عموماً کسی ایک وجہ سے نہیں بلکہ کئی عوامل کے مجموعے سے پیدا ہوتا ہے۔ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، شرح سود میں اضافے کے خدشات، منافع سمیٹنے کی سرگرمیاں اور قرض لے کر کی جانے والی سرمایہ کاری کی جبری فروخت قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
خصوصاً اگر سرمایہ کاروں کو مہنگائی، شرح سود یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوں تو وہ نسبتاً خطرناک سمجھے جانے والے اثاثوں سے سرمایہ نکال لیتے ہیں۔ بٹ کوائن اب بھی بڑی حد تک ٹیکنالوجی حصص کی طرح ایک خطرناک سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے عالمی منڈیوں میں منفی رجحان اس کی قیمت کو متاثر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جب قیمتوں میں معمولی کمی آتی ہے تو لیوریج یعنی قرض لے کر سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کی پوزیشنز خودکار نظام کے تحت بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے فروخت کا دباؤ اچانک بڑھ جاتا ہے اور قیمتیں تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بٹ کوائن کی حالیہ گراوٹ مختصر مدتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی مالیاتی پالیسی، شرح سود کے فیصلوں اور کرپٹو فنڈز میں سرمایہ کے بہاؤ پر مرکوز ہیں، جو آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔














