بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ پر تعینات 9 اعلیٰ افسران کی تقرریوں کی باقی مدت منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ عوامی انتظامیہ بنگلہ دیش کی جانب سے پیر کی رات باضابطہ طور پر 9 الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کا آغاز، فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ افسران کی کنٹریکٹ مدت کا بقیہ حصہ حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی شرائط کے تحت ختم کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس فیصلے کی کوئی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
جن افسران کی کنٹریکٹ تقرریاں منسوخ کی گئی ہیں ان میں سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈویژن سید الرحمٰن، سیکریٹری انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ڈویژن شیش حیدر چوہدری، ڈائریکٹر جنرل نیشنل اکیڈمی فار پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ صدیق زبیر، سینئر سیکریٹری لینڈ اپیل ڈویژن محمد یوسف، سینئر سیکریٹری وزارتِ خواتین و اطفال ممتاز احمد، پلاننگ کمیشن کے رکن مخلس الرحمٰن اور ایم اے اکمل حسین آزاد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا صحافتی آزادی کے تحفظ کا عزم
اس کے علاوہ ورلڈ بینک میں متبادل ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیگم شریفا خان اور پلاننگ کمیشن کی رکن ڈاکٹر قیوم آرا بیگم بھی اس فیصلے سے متاثر ہونے والے افسران میں شامل ہیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام انتظامی سطح پر نئی پالیسیوں اور ترجیحات کے تحت کیا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔














