وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی تبدیلی ہے اور اسے روکنے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت شعور ہے، جس کے بغیر نہ مؤثر اقدامات ممکن ہیں اور نہ ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’گرین جرنلزم‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات اور پلیٹ فارم قابلِ تحسین ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
عطا تارڑ نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف ایک سائنسی یا پالیسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جو ایک انسان کی جان بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کو بچاتا ہے‘ جیسے آفاقی پیغام آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور انہیں عام کرنے کی ضرورت ہے۔
Minister for Information and Broadcasting @TararAttaullah addressing Green Journalism International conference in #Islamabad @MoIB_Official @ForeignOfficePk #RadioPakistan #News https://t.co/Gerzlljo1x
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) June 11, 2026
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی شعور کو ایک ثقافتی تبدیلی کے طور پر اپنانا ہوگا، کیونکہ دنیا میں درجہ حرارت کی شدت، سیلاب، خشک سالی، اور موسموں کی غیر معمولی تبدیلیاں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ آبادی جو دریاؤں اور نشیبی علاقوں کے قریب رہتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ ہر شہری ماحولیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔
مزید پڑھیں: ماحولیات کے عالمی دن پر مریم نواز کا پلاسٹک فری پنجاب اور شجرکاری کے عزم کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ یہ صرف قومی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے، کیونکہ اسلام بھی ماحولیات اور انسانی زندگی کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے قرآن مجید اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی انسانی جان اور ماحول کے تحفظ کا پیغام دیا تھا، اور آج بھی وہی اصول انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں شدید ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ہے، جن میں 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب شامل ہیں، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر عطا تارڑ کو کراٹے کمبیٹ فائٹر شاہ زیب رند سے معذرت کیوں طلب کرنا پڑی؟
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے اجتماعی شعور ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اس میں ماحولیاتی آگاہی کے حوالے سے ایک الگ اعلامیہ بھی شامل کیا جائے، جس میں میڈیا، وزارتوں اور دیگر اداروں کی مشترکہ ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے زیراہتمام راول جھیل میں صفائی مہم
وفاقی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے دور میں سوشل میڈیا پر منفی اور متنازع مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جس کے باعث مثبت اور تعمیری پیغامات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ماحولیاتی آگاہی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔














