غزہ میں جاری بحران اکیسویں صدی کے پیچیدہ ترین انسانی اور سیاسی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ مسلسل فوجی کشیدگی، شہری آبادی کا جانی نقصان اور خطے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام عالمی برادری کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا تھا۔ ایسے ماحول میں اگر بروقت سفارتی مداخلت نہ ہوتی تو خدشہ تھا کہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور نسلی المیے میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ اسی پس منظر میں حالیہ امن کوششیں ایک اہم بین الاقوامی پیش رفت کے طور پر سامنے آئیں، جن میں علاقائی قیادت نے مرکزی کردار ادا کیا۔
سعودی عرب نے، ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں، بحران کے دوران فعال اور فیصلہ کن سفارت کاری اپنائی۔ سرکاری بیانات اور سفارتی روابط میں واضح طور پر جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور سیاسی مذاکرات پر زور دیا گیا۔ ریاض نے عالمی طاقتوں اور علاقائی فریقین کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کو اولین ترجیح بنایا اور اس معاملے کو محض علاقائی تنازع کے بجائے عالمی امن اور اجتماعی سلامتی کے تناظر میں پیش کیا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہی حکمتِ عملی اس امر میں مؤثر رہی کہ بحران مزید شدت اختیار نہ کرے۔
ولی عہد محمد بن سلمان کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا تھا۔ اعلیٰ سطحی مشاورت، مربوط فیصلہ سازی اور پیشگی سفارت کاری نے سعودی مؤقف کو واضح سمت دی۔ سعودی قیادت نے شہری آبادی کے تحفظ کو بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا پائیدار حل سیاسی مکالمے اور دو ریاستی فریم ورک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ مؤقف امن اقدام کی بنیاد کے طور پر ابھرا اور اسے عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا گیا۔
اس عمل میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں رہا۔ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر جنگ بندی، انسانی امداد اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مستقل حمایت کی۔ پاکستانی خارجہ پالیسی نے طاقت کے استعمال کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ متوازن اور اصولی مؤقف امن کوششوں کو اخلاقی جواز فراہم کرنے اور عالمی ہم آہنگی بڑھانے میں معاون ثابت ہوا۔
عالمی میڈیا اور پالیسی تجزیہ کاروں نے سعودی عرب اور پاکستان کے مشترکہ مؤقف کو عمومی طور پر مثبت انداز میں رپورٹ کیا۔ مبصرین کے نزدیک سعودی عرب نے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو انسانی تحفظ اور سیاسی استحکام کے لیے استعمال کیا، جبکہ پاکستان نے اخلاقی اور سفارتی سطح پر اس بیانیے کو تقویت دی۔ اس مشترکہ سفارتی ہم آہنگی نے دیگر ریاستوں کو بھی فوری جنگ بندی اور امدادی اقدامات کے حق میں آواز بلند کرنے پر آمادہ کیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو غزہ سے متعلق یہ امن اقدام محض وقتی سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ماڈل میں علاقائی قیادت، عالمی ذمہ داری اور اصولی حمایت تینوں عناصر یکجا نظر آتے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت، سعودی عرب کی فعال سفارت کاری اور پاکستان کی اصولی معاونت نے یہ پیغام دیا کہ جدید عالمی سیاست میں پائیدار امن طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ دانشمندانہ، مربوط اور بروقت سفارت کاری سے ممکن ہوتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ بحث مزید واضح ہوگی کہ آیا یہ حکمت عملی خطے میں ایک دیرپا سیاسی حل کی بنیاد رکھ پاتی ہے یا نہیں، تاہم موجودہ مرحلے پر اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔














