غزہ بورڈ آف پیس میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار

بدھ 25 فروری 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں جاری بحران اکیسویں صدی کے پیچیدہ ترین انسانی اور سیاسی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ مسلسل فوجی کشیدگی، شہری آبادی کا جانی نقصان اور خطے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام عالمی برادری کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا تھا۔ ایسے ماحول میں اگر بروقت سفارتی مداخلت نہ ہوتی تو خدشہ تھا کہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور نسلی المیے میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ اسی پس منظر میں حالیہ امن کوششیں ایک اہم بین الاقوامی پیش رفت کے طور پر سامنے آئیں، جن میں علاقائی قیادت نے مرکزی کردار ادا کیا۔

سعودی عرب نے، ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں، بحران کے دوران فعال اور فیصلہ کن سفارت کاری اپنائی۔ سرکاری بیانات اور سفارتی روابط میں واضح طور پر جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور سیاسی مذاکرات پر زور دیا گیا۔ ریاض نے عالمی طاقتوں اور علاقائی فریقین کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کو اولین ترجیح بنایا اور اس معاملے کو محض علاقائی تنازع کے بجائے عالمی امن اور اجتماعی سلامتی کے تناظر میں پیش کیا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہی حکمتِ عملی اس امر میں مؤثر رہی کہ بحران مزید شدت اختیار نہ کرے۔

ولی عہد محمد بن سلمان کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا تھا۔ اعلیٰ سطحی مشاورت، مربوط فیصلہ سازی اور پیشگی سفارت کاری نے سعودی مؤقف کو واضح سمت دی۔ سعودی قیادت نے شہری آبادی کے تحفظ کو بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا پائیدار حل سیاسی مکالمے اور دو ریاستی فریم ورک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ مؤقف امن اقدام کی بنیاد کے طور پر ابھرا اور اسے عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا گیا۔

اس عمل میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں رہا۔ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر جنگ بندی، انسانی امداد اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مستقل حمایت کی۔ پاکستانی خارجہ پالیسی نے طاقت کے استعمال کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ متوازن اور اصولی مؤقف امن کوششوں کو اخلاقی جواز فراہم کرنے اور عالمی ہم آہنگی بڑھانے میں معاون ثابت ہوا۔

عالمی میڈیا اور پالیسی تجزیہ کاروں نے سعودی عرب اور پاکستان کے مشترکہ مؤقف کو عمومی طور پر مثبت انداز میں رپورٹ کیا۔ مبصرین کے نزدیک سعودی عرب نے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو انسانی تحفظ اور سیاسی استحکام کے لیے استعمال کیا، جبکہ پاکستان نے اخلاقی اور سفارتی سطح پر اس بیانیے کو تقویت دی۔ اس مشترکہ سفارتی ہم آہنگی نے دیگر ریاستوں کو بھی فوری جنگ بندی اور امدادی اقدامات کے حق میں آواز بلند کرنے پر آمادہ کیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو غزہ سے متعلق یہ امن اقدام محض وقتی سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ماڈل میں علاقائی قیادت، عالمی ذمہ داری اور اصولی حمایت تینوں عناصر یکجا نظر آتے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت، سعودی عرب کی فعال سفارت کاری اور پاکستان کی اصولی معاونت نے یہ پیغام دیا کہ جدید عالمی سیاست میں پائیدار امن طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ دانشمندانہ، مربوط اور بروقت سفارت کاری سے ممکن ہوتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ بحث مزید واضح ہوگی کہ آیا یہ حکمت عملی خطے میں ایک دیرپا سیاسی حل کی بنیاد رکھ پاتی ہے یا نہیں، تاہم موجودہ مرحلے پر اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟