پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں بلکہ صرف غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک منصفانہ و پائیدار حل کو آگے بڑھانا ہے۔
بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے ہونیوالی تنقید پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے 19 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا جو بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی قرار دیا ہے جو یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوجی بھیجے گا۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی حمایت کرتا ہے، جو 2 ریاستی حل پر مبنی ہو، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدیں اور القدس شریف آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔
مزید پڑھیں: 8 عرب اسلامک ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت کا خیرمقدم، مشترکہ اعلامیہ جاری
ان لوگوں کے لیے وضاحت کی گئی کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے، پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ ایک خودمختار، مستحکم اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم نہ ہو، جس کی سرحدیں 1967 کی طے شدہ ہوں اور القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حوالے سے اپنا موقف شفاف، مستقل اور اصولی رکھا ہے، جس کی بار بار سرکاری بیانات میں تصدیق کی گئی اور یہ موقف بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی ہے۔














