امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایسے میزائل بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو براہِ راست امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ تہران اپنے نیوکلیئر پروگرام کی بحالی پر بھی کام کر رہا ہے جسے گزشتہ سال امریکی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پہلے ہی ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ اور بیرونِ ملک موجود امریکی بیسز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اور اب وہ ایسے میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے جو جلد ریاستہائے متحدہ تک پہنچ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے ایٹامک پروگرام اور میزائل پروگرام سمیت دیگر معاملات پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بڑے جھوٹ قرار دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور حالیہ بدامنی سے متعلق امریکی دعوے بے بنیاد ہیں۔
2025 میں یو ایس ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اگر تہران ایسا فیصلہ کرے تو وہ 2035 تک عسکری لحاظ سے قابلِ عمل انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ایران نے ایسا کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے۔
یو ایس کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت قلیل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جن کی حدِ پرواز تقریباً 1,850 میل یا 3,000 کلومیٹر تک ہے، جبکہ براعظمی امریکا ایران کے مغربی کنارے سے 6,000 میل سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اعلیٰ فوجی قیادت کے خدشات کی رپورٹس مستردی کردیں
واشنگٹن اور تہران ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق نئے معاہدے کے لیے دو ادوار کی بات چیت مکمل کر چکے ہیں، جو اس معاہدے کی جگہ لے گا جسے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ختم کر دیا تھا۔
امریکا نے ایران سے یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر صفر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے پر بھی زور دیا ہے، تاہم ایران ان مطالبات کو مسترد کرتا رہا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران کے3 نیوکلیئر مقامات پر حملوں کا حکم دیا تھا اور بعد ازاں دعویٰ کیا تھا کہ تہران کا ایٹامک پروگرام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ منگل کے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران دوبارہ اپنے عزائم شروع کرنا چاہتا ہے اور ایک بار پھر اپنے خطرناک نیوکلیئر مقاصد کی طرف بڑھ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑی امریکی فوجی تعیناتی کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 2 ایئرکرافٹ کیریئرز، درجن سے زائد جنگی جہاز، متعدد جنگی طیارے اور دیگر عسکری اثاثے خطے میں بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ بات چیت کا اگلا دور جمعرات کو متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی
خطاب میں صدر ٹرمپ نے داخلی امور پر زیادہ توجہ دی، چین کا ذکر نہیں کیا اور روس و یوکرین تنازع کے خاتمے کی کوششوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے نیٹو کے اس فیصلے کو بھی سراہا جس کے تحت رکن ممالک نے دفاع پر مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد خرچ کرنے پر اتفاق کیا۔














