نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں رہائش، امیگریشن حکام کی جانب سے طلبا کی حراست اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ان دونوں رہنماؤں کی گزشتہ سال کے اواخر میں ظہران ممدانی کی میئر کے انتخاب میں کامیابی کے بعد دوسری ملاقات تھی، واضح رہے کہ ظہران ممدانی ڈیموکریٹ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ‘شہر کی ترقی کے لیے ایک ہیں،’ باہمی تناؤ کے باوجود ٹرمپ اور زہران ممدانی کی خوشگوار ملاقات
ممدانی نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے مفید ملاقات کی اور وہ نیویارک شہر میں مزید رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔
ممدانی کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کے سامنے جمعرات کو کولمبیا یونیورسٹی کی آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی طالبہ ایلمینا آغایوا کی امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کی جانب سے حراست کا معاملہ اٹھایا۔
Trump and Mamdani meet for second time, discuss housing, detention of student https://t.co/MtfrtzZPhE https://t.co/MtfrtzZPhE
— Reuters (@Reuters) February 26, 2026
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے انہیں آگاہ کیا کہ طالبہ کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔
بعد میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا کہ آغایوا کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اگرچہ دونوں رہنما ایک دوسرے کی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور ان کے نظریات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، تاہم نومبر میں ہونے والی ان کی پہلی ملاقات غیر متوقع طور پر خوشگوار رہی تھی، اس ملاقات میں بھی رہائشی اخراجات میں کمی پر بات ہوئی تھی۔
Just got off the phone with President Trump.
In our meeting earlier, I shared my concerns about Columbia student Elmina Aghayeva, who was detained by ICE this morning.
He has just informed me that she will be released imminently. https://t.co/rvmTWpq83r
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) February 26, 2026
سابق ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر ٹرمپ نے نیویارک میں مزید رہائش گاہوں کی تعمیر کی ممدانی کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔
2026 کے اواخر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے رہائش کو زیادہ قابلِ استطاعت بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، کیونکہ گھروں کی قیمتیں چند سال قبل کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
مہنگائی اور قابلِ برداشت رہائش ممدانی کی انتخابی کامیابی کے اہم نکات میں شامل تھے، صدر ٹرمپ نے اس ہفتے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بھی رہائشی اخراجات کم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس حوالے سے بعض پالیسی اقدامات کا اعلان کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے صحافی کے سخت سوال پر ممدانی کو کیسے مشکل سے نکالا؟
تاہم امریکا میں مارگیج یعنی رہن کی شرح سود اب بھی بلند ہے اور ملک کے بیشتر حصوں میں رہائش کی فراہمی طلب کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث بہت سے خاندانوں کے لیے گھر کی ملکیت کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی سخت تجارتی اور امیگریشن پالیسیوں کے باعث تعمیراتی سامان اور گھریلو آلات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ افرادی قوت کی کمی نے تعمیراتی شعبے کو متاثر کیا ہے، جس سے نئے گھروں کی تعمیر میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ظہران ممدانی نے ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں، خصوصاً آئس ایجنٹس کے استعمال اور ملک بدری کی کوششوں پر تنقید کی ہے، اسی طرح غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے صدر کی پالیسیوں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، میئر نیویارک ظہران ممدانی کی مدد کرنے کو تیار
نیویارک سٹی میئر کے دفتر کے مطابق ظہران ممدانی نے وائٹ ہاؤس کو 4 فلسطین حامی طلبا کی فہرست بھی فراہم کی جو ملک بدری کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان کیخلاف مقدمات کے خاتمے کے لیے مدد طلب کی۔
ان طلبا میں محمود خلیل، یونسیو چنگ، محسن مہداوی اور لقاع کردیہ شامل ہیں۔ کردیہ، جو حراست کے دوران دورے کے باعث حال ہی میں اسپتال منتقل کی گئی تھیں اور غزہ میں اپنے درجنوں اہلِ خانہ کو کھو چکی ہیں، تاحال آئس کی تحویل میں ہیں جبکہ دیگر 3 طلبا کو گزشتہ ایک سال کے دوران رہا کیا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فلسطین حامی مظاہرین کو یہود دشمن قرار دیا ہے، تاہم بعض یہودی گروہ پر مشتمل مظاہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ان کی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں پر قبضے پر تنقید کو غلط طور پر یہود دشمنی سے جوڑتے ہیں اور فلسطینی حقوق کی حمایت کو انتہا پسندی قرار دینا درست نہیں۔














