آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ہفتہ انتہائی خاص ہے کیونکہ 28 فروری کو 6 سیارے ایک نایاب ترتیب میں نظر آئیں گے، جسے فلکیاتی پریڈ کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
اس روز عطارد، زہرہ، نیپچون، زحل، یورینس اور مشتری آسمان پر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق 3 سے 5 سیاروں کا ایک ساتھ نظر آنا تو نسبتاً عام ہے، لیکن 6 سیاروں کا بیک وقت ایک ترتیب میں دکھائی دینا ایک نایاب منظر ہوتا ہے۔
فلکیاتی پریڈ کیا ہوتی ہے؟
فلکیاتی پریڈ اس وقت ہوتی ہے جب زمین سے دیکھنے پر کئی سیارے ایک سیدھ میں یا قریب قریب دکھائی دیں۔ حقیقت میں وہ خلا میں ایک سیدھی لائن میں نہیں ہوتے بلکہ یہ منظر زمین کے زاویے کی وجہ سے بنتا ہے۔
یہ منظر کب تک رہے گا؟
یہ ترتیب زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی کیونکہ ہر سیارہ اپنی رفتار سے گردش کرتا ہے، اس لیے چند دنوں میں ان کی پوزیشن بدل جائے گی۔
دیکھنے کا بہترین وقت کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق غروبِ آفتاب کے تقریباً 30 منٹ سے ایک گھنٹے بعد کا وقت سب سے بہتر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
ڈیوڈ آرمسٹرانگ، جو یونیورسٹی آف ورکوک کے شعبہ فلکیات سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ سیارے غروبِ آفتاب کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ دکھائی دیں گے، جبکہ بعض سیارے اس سے زیادہ دیر تک بھی نظر آ سکتے ہیں، اس لیے یہ آئندہ کئی برسوں میں ایک بہترین موقع ہے۔
کن سیاروں کو بغیر دوربین دیکھا جا سکتا ہے؟
عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کو کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ درکار ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آسمان صاف ہو اور روشنی کم ہو تو یہ منظر زیادہ واضح نظر آئے گا۔
یہ نایاب فلکی منظر دنیا کے بیشتر حصوں میں دیکھا جا سکے گا، بشرطیکہ موسم صاف ہو اور افق واضح نظر آ رہا ہو۔ 28 فروری 2026 کی شام یہ 6 سیارے غروبِ آفتاب کے بعد مغربی افق کے قریب دکھائی دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 کا پہلا بلڈ مون کب نمودار ہوگا،کیا پاکستان میں دیکھا جاسکے گا؟
ناسا کے مطابق یہ ترتیب زمین سے دیکھنے پر بنے گی اور چند دنوں بعد سیاروں کی پوزیشن بدل جائے گی۔
پاکستان میں بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں یہ منظر دیکھا جا سکے گا۔ بہتر ہوگا کہ شہر کی تیز روشنیوں سے دور کسی کھلی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں مغربی سمت میں عمارتیں یا پہاڑ رکاوٹ نہ ہوں۔
غروبِ آفتاب کے تقریباً 30 منٹ بعد سے ایک گھنٹے تک کا وقت سب سے موزوں ہوگا۔ عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کھلی آنکھ سے نظر آ سکتے ہیں جبکہ یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ درکار ہوگی۔














