امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں افغان طالبان حکومت کے خلاف جاری ’آپریشن غضب لِلحق‘ کے تناظر میں پاکستان کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ’غیر معمولی طور پر اچھی کارکردگی‘ دکھا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹیکساس روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف پر سوال کا جواب دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی نے انہیں مداخلت کی درخواست کی ہے؟ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو میں کروں گا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، بہت ہی اچھے۔‘
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹا لیا
انہوں نے کہا کہ ’وہاں ایک عظیم وزیرِاعظم، ایک عظیم جنرل اور ایک عظیم رہنما موجود ہیں، ان میں سے 2 شخصیات ایسی ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتا ہوں،‘ ٹرمپ ماضی میں بھی وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ پاکستان غیر معمولی طور پر اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ: ’خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں‘ افغانستان کی جارحیت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور
واضح رہے کہ جمعے کے روز پاکستانی افواج نے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان حکومت کی اہم عسکری تنصیبات کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ فوجی ترجمان کے مطابق جاری آپریشن مطلوبہ نتائج دے رہا ہے اور سرحد کے ساتھ 53 مقامات پر شدت پسندوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 297 دشمن مارے گئے، 450 سے زائد زخمی ہوئے، افغان طالبان کی 89 چوکیاں تباہ اور 18 پر قبضہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان کے 29 مقامات پر فضائی کارروائیاں کی گئیں۔













