سینیٹ: ’خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں‘ افغانستان کی جارحیت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ آف پاکستان نے مغربی سرحد پر افغانستان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال جارحیت اور سرحد پار کارروائیوں کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کر لی۔

منظور کردہ قرارداد میں پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی پر کسی بھی قسم کے حملے کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

قرارداد پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ایوان میں پیش کی، جسے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی مکمل حمایت حاصل رہی۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

قرارداد میں سرحدی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ایوان نے واضح کیا کہ سرحد پار دراندازی اور جارحانہ اقدامات سفارتی آداب، پرامن ہمسائیگی کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کوئی بھی کوشش پوری قوم کے وقار پر حملہ تصور کی جائے گی اور اس کا سخت، متناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

سینیٹ نے ان کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے افواجِ پاکستان کے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور مسلح افواج و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہا۔

قرارداد میں افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام جارحانہ کارروائیاں بند کرے، پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔

ساتھ ہی عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور افغان حکام کو خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات پر آمادہ کرے۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری، سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

بحث کے دوران شیری رحمان نے کہا کہ جس طرح ماضی میں قومی سلامتی کے معاملات پر آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت مؤقف اپنایا گیا، اسی طرح موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان اپنے آئینی اور قانونی حق کے مطابق ردعمل دے رہا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے علی ظفر نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ ملک کی سلامتی کا ہو تو تمام سیاسی قوتیں متحد ہو جاتی ہیں اور دہشتگردی کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا دہشتگردوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ گروپ میں شامل کیوں کیا؟

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا مذاکرات کے بعد پاکستان کی تیز ترین سفارتکاری، قیام امن کے لیے کن عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، رابطے کیے؟

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار