قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان اورافغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تمام مسائل کو مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ جاری رہا۔
مزید پڑھیں: کس شرط پر لوگوں سے ویڈیو کال پر بات کریں گے؟ شاہد آفریدی کی منفرد انداز میں برانڈ کی تشہیر
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک نے بھی ثالثی اور مفاہمت کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔ انہوں نے رمضان المبارک کے تقدس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عبادت اور اتحاد کا مہینہ ہے، نہ کہ خونریزی کا، تاہم افسوس کے ساتھ پڑوسی ملک کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا جس کا پاکستانی افواج نے مؤثر جواب دیا اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ہمارے برادر اسلامی ممالک نے بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی پوری کوشش کی، مگر تمام خلوص اور کاوشوں کے باوجود دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ جاری رہا۔…
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) February 27, 2026
شاہد آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ کسی بیرونی ایجنڈے پر چلنے کے بجائے خطے کے امن کو ترجیح دے۔
مزید پڑھیں: شاہد آفریدی غصے میں آ گئے، شاہین، بابر اور شاداب کو باہر بٹھادینے کی بات کہہ دی
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، اور آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی بلند کیا۔














