امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘اب یہ معاملہ ایک دن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے، ظاہر ہے’ اور انہوں نے مزید کہا کہ ‘کیونکہ وہ بری طرح دباؤ میں ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا سب سے تباہ کن جوابی حملوں کا اعلان
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ردعمل کے طور پر ملک بھر میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملے اب تک ‘ہماری توقع سے کم’ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھ رہے تھے کہ حملے اس سے دوگنے ہوں گے۔’
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت انتباہ بھی جاری کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج بہت سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں، پہلے سے بھی زیادہ سخت۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کو ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم انہیں ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔‘
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ وہ 86 برس کے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای کے قتل کے بعد حکومت نے 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے جبکہ 7 روزہ عام تعطیلات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس
واضح رہے کہ اس سے قبل سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتا بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق خامنہ ای کی ایک بہو بھی حملے میں مارے جانے کی خبر ہے۔
ایران نے خامنہ ای کے سینیئر سیاسی مشیر علی شمخانی اور انقلابی گارڈ کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں