مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع شہر بیت شمش میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 اسرائیلی شہری ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کی شدت اور اس کے اثرات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جوابی ایرانی کارروائی میں 3 امریکی فوجی ہلاک، واشنگٹن نے تصدیق کردی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مقامی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں اس وقت ہوئی جب شہری ایک عوامی بم شیلٹر میں پناہ لے رہے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ممکنہ طور پر میزائل براہِ راست پناہ گاہ پر گرا، جس کی وجہ سے وہاں موجود زیادہ تر افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جون میں ایران کے ساتھ پچھلی جھڑپوں کے دوران پولیس کو علم ہو چکا تھا کہ عوامی پناہ گاہیں براہِ راست بیلسٹک میزائل کے حملے کی شدت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دفاعی تنصیبات پر کامیاب ایرانی حملوں نے امریکی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی
عرب میڈیا کے مطابق بیت شمش کے علاقے میں اسرائیل کی نیوکلئیر تنصیبات سمیت دیگر حساس تنصیبات بھی موجود ہیں، جس سے حملے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں کہ اس بار ایرانی میزائل کو روکنے میں ناکامی کیوں ہوئی۔

اس واقعے کے بعد مقامی سکیورٹی ادارے الرٹ ہو گئے ہیں اور علاقے میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ مزید حملوں سے بچا جا سکے۔














