واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ مسترد، سعودی عرب نے رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کی تھی اور یہ کارروائی مبینہ طور پر ہفتوں پر محیط لابنگ کے بعد عمل میں آئی۔ تاہم امریکا میں موجود سعودی سفارتخانے نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری تھے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے 4 باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ خطے کی صورتحال اور اتحادیوں کی تشویش کے تناظر میں امریکا نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کیخلاف مہم مسلم اُمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، علامہ طاہر اشرفی

تاہم واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان دعوؤں کی واضح تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے ساتھ قابلِ اعتماد معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنی کسی بھی بات چیت میں ہم نے کبھی بھی صدر پر مختلف پالیسی اختیار کرنے کے لیے لابنگ نہیں کی۔‘

ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی پالیسی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے اور سعودی عرب کے مؤقف کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

سعودی سفارتخانے کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں کسی بھی قسم کی علاقائی شمولیت کے تاثر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ سعودی عرب ماضی میں متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی پائیدار راستہ ہیں۔

مزید پڑھیں: کشیدگی کے مقابل امن کی حکمت عملی، سعودی عرب کا مؤقف واضح

سعودی سفارتخانے کے ترجمان کا بیان اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریاض نے ایران کے حوالے سے کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ اس کا مؤقف مسلسل سفارتی حل کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں