اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج سے متعلق متفرق درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجا اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رجسٹرار آفس نے کیا اعتراضات عائد کیے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے بتایا کہ اٹارنی کی تصدیق شدہ کاپی فراہم نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ 2 اعتراضات درست ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا اسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
عدالت نے درخواست کو نمبر لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے وکلا سے پوچھا کہ مرکزی اپیل پر دلائل کیوں نہیں دیے جارہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ کل دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ عدالت اپیل اور درخواست دونوں کو سن لے گی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اپیل کی پیپر بک تیار ہے، جس پر پیپر بک تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیے: توشہ خانہ فوجداری کیس: عمران خان کی میڈیکل چیک اپ کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پیپر بک تیار ہونے میں 2 سے 3 دن لگ سکتے ہیں جبکہ مرکزی اپیل آئندہ ہفتے مقرر کی جارہی ہے۔ عدالت نے وکلا کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی۔ توشہ خانہ فوجداری کیس کو 10 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔














