سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے کی مذمت

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مملکتِ سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مملکت نے اس امر پر زور دیا کہ اس بزدلانہ اور بلاجواز حملے کی تکرار تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جن میں 1949 کے جنیوا کنونشنز اور 1961 کا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات شامل ہیں، جو مسلح تصادم کے دوران بھی سفارتی عمارات اور عملے کو استثنا فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ

مملکت نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اس طرح کے کھلے عام ایرانی طرزِ عمل کی تکرار خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

سعودی عرب نے اپنی سلامتی، علاقائی خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور اہم مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے مکمل حق کا اعادہ کیا، جس میں جارحیت کا جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

سونا سستا ہوگیا، پاکستان میں فی تولہ قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

جاپان کی پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے نئی کاوشیں، 4 لاکھ ڈالر فراہم کردیے

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟