بھارتی اسکالر سلمان احمد ندوی نے پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت کو جابر اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مفاد کے بجائے بیرونی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:ترکیہ میں داعش کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، داعش سے وابستہ 350 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار
ذرائع کے مطابق سلمان ندوی نے افغان طالبان کے خلاف پاکستانی کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور یہ مؤقف طالبان کے وزیر خارجہ ملا عبدالغنی متقی سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ بھارتی انٹیلیجنس کے مشیر اجیت دوول نے بھی بھارتی علما کی افغان طالبان سے ملاقات کروائی۔
سلمان ندوی بھارت اور افغان طالبان کے تعلقات کے حامی ہیں اور مبصرین کے مطابق وہ بھارتی حکومت کی زبان بول رہے ہیں۔ ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر مظالم پر خاموش ہیں، جبکہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند گروہوں کی حمایت کرکے بھارتی مؤقف کی تائید کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا
مزید برآں، سلمان ندوی نے 2014 میں داعش کے لیڈر ابو بکر البغدادی کی خلافت کی حمایت میں خط لکھا تھا۔ مبصرین کے مطابق، داعش اور طالبان کی حمایت کرنے والے سلمان ندوی سکھوں اور کشمیریوں پر مظالم پر خاموش رہتے ہیں، اور انہیں بھارتی انٹیلیجنس (را) کا پراکسی قرار دیا جاتا ہے۔













