پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز ایک اور غیر مستحکم ٹریڈنگ سیشن دیکھا گیا، جس میں انڈیکس 1,354.88 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند ہوا۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 0.86 فیصد کمی کے ساتھ 155,777.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹریڈنگ کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا، اور فوری فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس 154,790.73 پوائنٹس تک بھی جا پہنچا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
تاہم، بعد میں مارکیٹ نے زبردست بحالی دکھائی اور انڈیکس 157,962.47 پوائنٹس کے انٹرا ڈے ہائی تک پہنچ گیا۔
بعد ازاں دوپہر کے اوائل میں فروخت کا دباؤ دوبارہ بڑھ گیا اور انڈیکس نیچے کی طرف آگیا۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -1,354.9 points (-0.86%) and closed at 155,777.2 with trade volume of 362.2 million shares and value at Rs. 26.54 billion. Today's index low was 154,791 and high was 157,962. pic.twitter.com/gQO0HWVA6W— Investify Pakistan (@investifypk) March 4, 2026
گزشتہ روز یعنی منگل کو اسٹاک مارکیٹ نے زبردست اور اعتماد بحال کرنے والی واپسی کی تھی، جب بڑے شعبوں میں جارحانہ خریداری نے مارکیٹ کو گزشتہ سیشن کی تاریخی مندی سے ابھرنے کا موقع دیا۔
اس دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 5,159.10 پوائنٹس یعنی 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 157,132.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا
تمام شیئرز کے انڈیکس میں حجم 622.69 ملین تک کم ہوا، جو پچھلے سیشن میں 770.69 ملین ریکارڈ ہوا تھا۔
شیئرزکی مالیت 29.95 ارب روپے تک کم ہوئی، جو پچھلے سیشن میں 44.36 ارب روپے تھی۔

یونٹی فوڈز سب سے زیادہ حجم والا اسٹاک رہا جس کے 117.21 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد کے الیکٹرک 64.94 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا۔
بدھ کو 479 کمپنیوں کے شیئرز ٹریڈ ہوئے، جن میں 201 میں اضافہ، 213 میں کمی اور 65 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 990 پوائنٹس کا اضافہ
عالمی منڈیوں میں بھی بدھ کے روز مندی دیکھی گئی، ایشیائی مارکیٹس میں اس خدشے کے پیش نظر کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ توانائی کے بحران کا باعث بن سکتی ہے سرمایہ کاروں نے سونے اور چِپ ساز کمپنیوں میں پوزیشنز کم کیں۔
سیول کی اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز 4 فیصد تک گر گئے، جس سے 2 روزہ مجموعی نقصان 11 فیصد سے تجاوز کر گیا اور جنوبی کوریائی کرنسی وون 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
جاپان کا نکی انڈیکس مسلسل تیسرے سیشن میں 2.5 فیصد گر گیا، واضح رہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں۔

بینچ مارک برینٹ خام تیل کے فیوچرز اس ہفتے 12 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔
تاہم بعد ازاں کچھ کمی دیکھنے میں آئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میں جہاز رانی کے لیے انشورنس کی ضمانت دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آئل ٹینکرز کو ایسکارٹ فراہم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست دباؤ، 100 انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ
امریکا اور اسرائیلی افواج گزشتہ 4 روز سے ایران پر حملے کر رہی ہیں، جبکہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے خلیجی آئل ریفائنریز اور سعودی عرب و کویت میں امریکی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
وال اسٹریٹ میں بڑے انڈیکسز نے ابتدائی نقصانات میں کچھ کمی کی، تاہم ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.8 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔













