مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتیں 30 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کررہا ہے، رانا ثنااللہ
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کیں، جس سے خلیجی خطے میں بے چینی بڑھ گئی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی منڈیوں کو خوفزدہ کر دیا۔
Europe spent years trying to shore up its energy defenses but war in the Middle East threatens to plunge it into another crippling gas crisis. https://t.co/Mn0bWHPrJr
— The Wall Street Journal (@WSJ) March 4, 2026
آبنائے ہرمز دنیا کا ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگی خطرات کے باعث جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ اس خدشے کی وجہ سے برینٹ خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، اور بعض تجزیہ کار 90 سے 100 ڈالر تک جانے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
یورپ میں گیس کا نیا بحران
یورپ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد قطر کی ایل این جی تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے بعد یورپی گیس کی قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھا گیا۔ یورپ کی بڑی گیس مارکیٹ ٹی ٹی ایف میں قیمتیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔

یورپ پہلے ہی روس سے گیس کی سپلائی کم ہونے کے بعد دباؤ میں ہے، اس لیے نئی رکاوٹ نے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اگر سپلائی مزید متاثر ہوئی تو یورپ میں بجلی اور گیس کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
سمندری راستے بند ہونے کے اثرات
اگرچہ ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز بند نہیں کی، لیکن دھمکیوں اور حملوں کے باعث جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔ تیل بردار جہازوں کے کرایے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف تیل مہنگا ہو رہا ہے بلکہ نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔ سرمایہ کار خطرے سے بچنے کے لیے محفوظ اثاثوں کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسری طرف روسی توانائی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ زیادہ تیل قیمتوں سے روس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ توانائی منڈیاں جنگی خطرات پر فوراً ردعمل دیتی ہیں۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشت اور عام صارفین دونوں پر پڑے گا۔












