مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستوں میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے اور جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بجائے افریقا کے ساحلوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔
جنوبی افریقا کے قریب واقع امیدِ نیک کے کنارے کے پاس جہازوں کی آمد و رفت میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق اب روزانہ اوسطاً 94 جہاز افریقا کے جنوبی کنارے سے گزر رہے ہیں۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان کی سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کے لیے متبادل راستہ دینے کی درخواست
اعداد و شمار کے مطابق 3 مارچ کو آبنائے ہرمز سے صرف 4 جہاز گزرے، جبکہ معمول کے دنوں میں یہاں سے روزانہ تقریباً 138 جہاز گزرتے تھے۔ اسی طرح تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں بھی پہلے کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی جہاز رانی کی کئی بڑی کمپنیوں نے بعض راستے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں اور اب اپنے جہاز افریقا کے گرد گھما کر بھیج رہی ہیں۔
ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد پیر کے روز آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
ایرانی فوجی کمان کے ایک مشیر ابراہیم جباری نے خبردار کیا کہ اگر کوئی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو انقلابی محافظ دستے اور بحریہ اسے تباہ کر دیں گے۔
دوسری جانب جنوبی افریقا کے تاجروں نے بھی ان رکاوٹوں کے اثرات کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ایک تجارتی تنظیم کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور جہاز رانی میں تاخیر کے باعث خلیجی منڈیوں کے ساتھ تجارت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، خاص طور پر تازہ زرعی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
تنظیم کے سربراہ ٹیری گیل کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی ہے۔ ان کے مطابق جہاز رانی کی معطلی اور فضائی حدود کی پابندیوں کے باعث نقل و حمل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور تجارتی سلسلے متاثر ہو رہے ہیں۔














