بینک آف خیبر نے مالی سال 2025 کے آڈٹ شدہ نتائج کے مطابق بعد از ٹیکس 5.82 ارب روپے کا ریکارڈ منافع حاصل کیا، جو مالی سال 2024 کے 3.62 ارب روپے کے مقابلے میں 61 فیصد اضافہ ہے۔ فی حصص آمدنی 3.12 روپے سے بڑھ کر 5.02 روپے ہو گئی، جبکہ بورڈ نے فی حصص 1.70 روپے کا حتمی نقد ڈیویڈنڈ تجویز کیا، جس کے بعد مجموعی ڈیویڈنڈ 3.20 روپے (32 فیصد) فی حصص ہو گیا۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم نہیں بلکہ پیدا کررہی ہے، یورپ کے مرکزی بینک کا دعویٰ
مالی سال 2025 کے دوران بینک کی کل آمدنی 23.1 ارب روپے تک پہنچ گئی جو مالی سال 2024 کے 18.3 ارب روپے کے مقابلے میں 26.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ خالص مارک اپ آمدنی 15.2 فیصد اضافے کے ساتھ 19 ارب روپے رہی جبکہ غیر مارک اپ آمدنی دو گنا سے زیادہ ہو کر 4.1 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اخراجات کو 11.7 ارب روپے تک محدود رکھا گیا، جس سے قبل از لیکس منافع 12.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو مالی سال 2024 کے 8.1 ارب روپے کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ ہے۔
31 دسمبر 2025 تک بینک کے کل اثاثے 453.3 ارب روپے اور سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو 275 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ بینک کی خالص ایکوئٹی مالی سال 2024 کے 21.9 ارب روپے سے بڑھ کر 23.7 ارب روپے ہو گئی، جس سے کیپٹل ایڈیکویسی مزید مضبوط ہوئی۔
بینک کے مینجنگ ڈائریکٹر حسن رضا نے کہا کہ یہ نتائج بینک کے بنیادی نظام کی مضبوطی اور تبدیلی کی حکمت عملی کے تیز رفتار ثمرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 3.20 روپے فی حصص کا مجموعی ڈیویڈنڈ شیئر ہولڈرز کے لیے بینک کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور بینک مضبوط بنیادوں کے ساتھ سال 2026 میں آگے بڑھ رہا ہے۔
بینک نے قیادت اور بورڈ کی مسلسل سرپرستی، تزویراتی وژن اور حکمت عملی کی بدولت یہ تاریخی کارکردگی حاصل کی، اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرنے کا عزم برقرار رکھا۔














