اسلام آباد عورت مارچ: پرامن احتجاج پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین اور منتظمین گرفتار

اتوار 8 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء پر پولیس نے سخت کارروائی کی، جس کے دوران متعدد خواتین اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف ویمن رائٹس ایکٹیویسٹ ڈاکٹر فرزانہ باری بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ

عورت مارچ آرگنائزیشن کی رکن نشاط مریم کے مطابق مارچ کے لیے این او سی کی درخواست ایک ماہ قبل جمع کروائی گئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر پرامن اجتماع کے حق سے شرکا کو محروم کیا گیا۔

نشاط نے وی نیوز کو بتایا کہ پولیس نے منتظمین کو گاڑی سے باہر نکلتے ہی زبردستی حراست میں لیا، بدسلوکی کی، دھکے دیے اور کچھ کارکن زخمی بھی ہوئے۔ قریباً 8 خواتین کو گرفتار کرکے جی-7 تھانے منتقل کیا گیا اور بعد میں مزید منتظمین اور بعض اہل خانہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہے، اور عورت مارچ کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی کی گئی۔

مزید پڑھیں: ’آپ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں‘، ماریہ بی کی عورت مارچ پر تنقید

دوسری جانب عورت مارچ کے منتظمین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کارروائی کو پرامن احتجاج پر ریاستی جبر قرار دیا اور کہا کہ شہریوں کو آئین کے تحت پرامن اجتماع کا حق حاصل ہے، جسے بلا وجہ روکا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp