11 ستمبر 2001، وہ سانحہ جس نے امریکا اور دنیا بدل دی

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی 25ویں برسی انتہائی سوگ اور سنجیدہ ماحول میں منائی گئی، جس کے دوران ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں طیارہ گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے تقریباً 3 ہزار افراد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

نیویارک کے لوئر مین ہٹن میں واقع گراؤنڈ زیرو پر ہونے والی مرکزی تقریب میں متاثرہ خاندانوں کے افراد نے شرکت کی، جن میں سے کئی اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور 4 سابق امریکی صدور بھی شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے 9/11 حملوں کے 3 ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین منسوخ کر دی

تقریب کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 46 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا، یہ وہ وقت تھا جب امریکن ایئرلائنز کی پرواز 11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرائی تھی۔

بعد ازاں متاثرہ خاندانوں کے افراد نے 11 ستمبر کو ہلاک ہونے والے 2,977 افراد کے نام پڑھ کر سنائے، 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 6 افراد کے نام بھی پڑھے گئے۔ یہ سلسلہ تقریباً 4 گھنٹے جاری رہا۔

وقت گزرنے کی ایک علامت یہ بھی تھی کہ نام پڑھنے والوں میں بعض ایسے بچے بھی شامل تھے، جنہوں نے 2001 میں ہلاک ہونے والے اپنے رشتہ داروں کو کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔

حملوں کے دوران چاروں طیاروں کے گرنے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز کے منہدم ہونے کے اوقات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔

اس سال پہلی مرتبہ ایک اضافی لمحۂ خاموشی ان ہزاروں افراد کے لیے بھی رکھا گیا جو 11 ستمبر کے بعد زہریلی گرد و غبار سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

تقریب میں شریک گریگوری کارافیلو نے اپنے دیرینہ دوست جیمز مارٹیلو کی یاد میں شرکت کی، جو مالیاتی ادارے کینٹر فٹزجیرالڈ میں کام کرتے تھے، حملوں میں اس ادارے کے 650 سے زائد ملازمین ہلاک ہوئے تھے۔

کارافیلو خود ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور کی 18ویں منزل پر موجود تھے تاہم وہ بحفاظت عمارت سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ بہت سے خاندانوں کے لیے انتہائی تباہ کن دن تھا، کیونکہ ہلاک ہونے والے جنگجو نہیں بلکہ عام لوگ تھے جو روزگار کے لیے کام پر گئے تھے۔

پینٹاگون اور پنسلوانیا میں بھی تقریبات

ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں پینٹاگون کے مقام پر بھی تقریب منعقد ہوئی، جہاں امریکن ایئرلائنز کی پرواز 77 عمارت سے ٹکرائی تھی اور 184 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیارے میں سوار بعض افراد کی زندگیوں کے واقعات بیان کیے، جن میں اپنے پہلے بچے کی امید سے ایک خاتون، آسٹریلیا جانے والا 4 افراد پر مشتمل خاندان اور مطالعاتی دورے پر جانے والے 3 چھٹی جماعت کے طلبہ شامل تھے۔

صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپنی تقاریر میں ایران کے خلاف جنگ کا بھی دفاع کیا اور اسے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیا۔

پنسلوانیا کے شہر شینکس وِل میں بھی سوگواروں نے اس مقام پر جمع ہوکر متاثرین کو یاد کیا جہاں مسافروں نے ہائی جیک کیے گئے یونائیٹڈ ایئرلائنز کے طیارے پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔

یہ طیارہ واشنگٹن کی جانب جا رہا تھا تاہم مسافروں کی مزاحمت کے نتیجے میں پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔

11 ستمبر کا امریکی نسلوں پر گہرا اثر

11 ستمبر کے حملوں نے امریکی معاشرے کی کئی نسلوں کو متاثر کیا اور ملکی خارجہ پالیسی، داخلی سیاست اور سیکیورٹی سے متعلق عوامی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

حملوں کے بعد امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں افغانستان اور عراق میں طویل جنگیں لڑی گئیں، ان جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی ردعمل نے بعد کے برسوں میں امریکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

مزید پڑھیں: 9/11  کے 25 سال: امریکا نے کیا سیکھا اور کون سی غلطیاں اب بھی دہرائی جا رہی ہیں؟

حملوں کے فوری بعد امریکی عوام میں یکجہتی، حب الوطنی اور غم کا اظہار نمایاں تھا، تاہم اسی عرصے میں مسلم امریکیوں اور مسلم اکثریتی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے خلاف تعصب اور نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ ہوا۔

متاثرین کا دائرہ 11 ستمبر تک محدود نہ رہا

11 ستمبر کے حملوں کا جانی نقصان صرف اس روز ہلاک ہونے والوں تک محدود نہیں رہا، جائے وقوعہ پر ہفتوں اور مہینوں تک امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لینے والے کارکنوں، قریبی رہائشیوں اور دیگر افراد میں زہریلی فضا کے باعث مختلف بیماریاں پیدا ہوئیں، جن کے نتیجے میں بعد کے برسوں میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے 343 اہلکار 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہوئے، جبکہ محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد سے 600 سے زائد موجودہ اور ریٹائرڈ فائر فائٹرز 9/11 سے متعلق بیماریوں کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: نائن 11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل جون 2028 میں شروع ہوگا

صرف رواں سال 26 فائر فائٹرز ان بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

11 ستمبر کے حملوں کو 25 برس گزرنے کے باوجود متاثرین کے خاندانوں، امدادی کارکنوں اور امریکی معاشرے کے لیے یہ سانحہ آج بھی گہرے دکھ، یاد اور انسانی نقصان کی علامت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp