بنگلہ دیش کے وزیر قانون، انصاف اور پارلیمانی امور اسد الزمان نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات تقریباً صفر تک کم ہو چکے ہیں، جبکہ جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں پاکستان کا ناپسندیدہ ریکارڈ
بدھ کے روز ڈھاکہ کلب میں ڈھاکہ یونیورسٹی ایل ایل ایم لائرز ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک افطار تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے اسد الزمان نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے لیے قانونی برادری کے فعال تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے فوجداری ضابطہ کی دفعہ 173(A) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کو عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر حفاظتی اقدام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بہت سے مقدمات میں سینکڑوں افراد کو نامزد کر دیا جاتا تھا اور انہیں پولیس رپورٹ کا برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث وہ کاروبار، بیرون ملک سفر یا علاج معالجہ جیسے معاملات انجام نہیں دے پاتے تھے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے وزیر قانون نے بتایا کہ حکومت نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت اعلیٰ حکام کے ذریعے عبوری پولیس رپورٹس جمع کرائی جا سکتی ہیں، تاکہ بے گناہ افراد کو غیر ضروری ہراسانی سے بچایا جا سکے۔
تقریب میں موجود وکلا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قانونی ماہرین دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں تو ملک میں قانون کی حکمرانی، انصاف اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں سیاستدان سے ضمانت کے بدلے رشوت مانگے جانے کا انکشاف
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی نظریات سے قطع نظر سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی اصل ذمہ داری بنگلہ دیش کے عوام کی خدمت کرنا ہے۔
تقریب کی صدارت ڈھاکہ یونیورسٹی ایل ایل ایم لائرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ علی احمد خوکون نے کی، جبکہ قائم مقام اٹارنی جنرل محمد ارشدالرؤف، سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل بیرسٹر روح القدس کاجل اور ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری قاضی محمد زین العابدین سمیت دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔














