منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری رہا، اور مارکیٹ نے مثبت آغاز کیا۔ کاروباری سرگرمیوں کے ابتدائی منٹوں میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 3,300 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
دوپہر 12:15 بجے کے قریب، بینچ مارک انڈیکس 180,320.11 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,280.29 پوائنٹس یا 1.85 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر، عالمی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہے، وزیر خزانہ
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، کیمیکل، کمرشل بینکس، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز اور ریفائنری سیکٹرز میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔
او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، ماری پیٹرولیم، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک جیسے انڈیکس میں اہم کردار ادا کرنے والے اسٹاکس سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +2873.74 points (+1.62%) at midday trading. Index is at 179,913.57 and volume so far is 275.81 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/oCu4E0BHAI— Investify Pakistan (@investifypk) June 16, 2026
گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں نے وفاقی حکومت کے بجٹ اقدامات اور امریکا و ایران کے درمیان ابتدائی امن سمجھوتے کی خبروں پر مثبت ردعمل دیا۔
پیر کے روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,639.93 پوائنٹس یعنی 2.69 فیصد سے بڑھ کر 177,039.83 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی منڈیوں میں منگل کے روز ایشیائی اسٹاکس میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جن میں بینک آف جاپان کی ممکنہ شرح سود میں اضافے کی توقع بھی شامل ہے۔
خلیجی ممالک کی صورتحال کے حوالے سے ابتدائی جوش میں کمی کے بعد مارکیٹ کا رجحان نسبتاً محتاط ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج نے مندی کا رجحان پلٹ دیا، انڈیکس 1 لاکھ 69 ہزار 972 پوائنٹس تک پہنچ گیا
برینٹ خام تیل کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 83.25 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ ایشیائی اور یورپی شپنگ کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی بحالی پر اعتماد بحال ہونے میں مزید ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایشیائی حصص بازار بھی ملا جلا رجحان دکھا رہے ہیں، ہانگ کانگ کے کمزور معاشی اعداد و شمار کے باعث دباؤ دیکھا گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا۔














