قومی پیغامِ امن کمیٹی میں تمام مذاہب کی نمائندگی سے مثبت پیغام دیا گیا، راجیش کمار ہرادسانی

جمعرات 12 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

قومی پیغامِ امن کمیٹی پاکستان کے رُکن اور سندھ حکومت کے اقلیتی فوکل پرسن راجیش کمار ہرداسانی نے وی نیوز کے پروگرام ’اِسلام دینِ امن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کا گلدستہ ہے۔ ہندؤوں کی ہولی دیوالی ہو مسیحی برادری کی کرسمس ہو، پاکستان کے فوجی اور سیاسی سربراہان کے ساتھ ساتھ عام مسلمان ہمارے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں جبکہ اس وقت رمضان کے موقع پر مندروں کے باہر افطاری کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ ہم لوگ مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر دفاعِ پاکستان کے لئے یکسو اور مُتحد ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کا قیام ایک بڑا اقدام اور تاریخی ہے جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے اور تمام مذاہب کی نمائندگی سے ایک مثبت پیغام دیا گیا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا پیغام بہت واضح ہے کہ ہمیں ملک میں امن رواداری اور ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ امن اور بھائی چارے کو بڑھانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اور دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ہمیں دُنیا کو ایک مثبت پیغام دینا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست، تمام ادارے اور عوام اس بات پر متفق ہیں کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور دہشتگردی کے خلاف ہمیں ایک مشترکہ بیانیہ بنانا ہے جو سب کا مُتفقہ بیانیہ ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مُلک بھر کے دورے کیے، علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں اور یہ پیغام پہنچایا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں اور اُس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

پاکستان میں اقلیتیں کس حد تک محفوظ ہیں؟

اس سوال کے جواب راجیش کمار ہرادسانی نے کہا کہ جو لوگ پاکستان میں اقلیّتوں کے غیر محفوظ ہونے کا پراپیگنڈا کرتے ہیں اُن کو دعوت دیتا ہوں کہ پاکستان آئیں اور آ کر دیکھیں کہ اقلیّتوں کے جو تہوار ہوتے ہیں وہ کس طرح سے منائے جاتے ہیں۔

میں تنقید کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ آئیں اور آ کر دیکھیں کہ ہم پاکستان میں دیوالی کیسے مناتے ہیں۔ جہاں پاکستان کے اعلٰی ترین عہدیداران ہمارے تہواروں اور تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری ہولی، دیوالی اور کرسمس میں ہمارے مسلمان بھائی آتے ہیں اور اب رمضان میں مندروں کے باہر افطاریاں کروائی جا رہی ہیں۔ تنقید کرنے والوں کو نہ صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں ہولی، دیوالی اور کرسمس کے تہوار کیسے منائے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم لوگ کتنی آزادی کے ساتھ یہاں کاروبار کرتے ہیں۔ سانگھڑ میں 150 کاٹن فیکٹریاں ہندو برادری کی ہیں، بدین میں درجنوں رائس ملیں ہندو برادری کی ہیں۔ ہر ملک میں مسائل ہوتے ہیں ہر ملک میں اقلیّتی برادری کے مسائل ہوتے ہیں، لیکن یہاں اُمید کی کرن بھی ہے کہ حکومتیں مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

80 کی دہائی کے بعد ہمارے مُلک میں نفرت اور انتشار بڑھانے کی کوشش کی گئی

راجیش کمار ہرادسانی نے کہا کہ 80 کی دہائی کے بعد اس مُلک میں نفرت اور انتشار بڑھا۔ لیکن اب ایک اُمید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ پیغامِ امن کمیٹی جیسی باڈی بنائی گئی ہے جس کے ذریعے سے اقلیّتوں کے حقوق کی ترویج و اشاعت کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مانسہرہ تا چلاس نئی موٹروے کی منظوری، چین سے براہِ راست رابطے کا منصوبہ 2 مرحلوں میں مکمل ہوگا

کیا اے آئی رومانوی تعلقات انسانی خوشی میں اضافہ کر سکتے ہیں؟ عالمی سروے کے حیران کن نتائج سامنے آگئے

پاکستان کا تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو اولین ترجیح بنانے کا مطالبہ

پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

’میں خیریت سے ہوں‘، طاہرہ سید نے اپنی موت کی خبر کو فیک قرار دے دیا

ویڈیو

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

مدینہ منورہ کا مرکز جہاں روزانہ ہزاروں قرآن مجید شائع ہوتے ہیں

بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں