بھارت نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے گجرات جانے والے تھائی بحری جہاز پر حملے کے بعد سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تجارتی بحری جہازوں کو ہدف بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ تھائی پرچم والا یہ جہاز ’موری ناری‘ گجرات کے کنڈلہ بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جب اسے ایران نے آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا۔
’کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت سب سے پہلے تصدیق کرے گا کہ آیا ایران ایسے حملوں میں ملوث ہے یا نہیں، اور اگر اس کی تصدیق ہو گئی تو ایران کو جواب پاکستان سے بھی زیادہ سخت ملے گا۔‘ مگر واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو بھرپور جواب دیتے ہوئے اس کے 6 طیارے مار گرائے تھے اور اس صورتحال کے بعد امریکا کو جنگ بندی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ تب سے اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس جنگ میں ہونے والے نقصان کا ذکر اپنی تقاریر میں کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ہرمز میں بھارت جانے والے تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کر دی
رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی کی تائید نہیں کرتا اور بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کی کارروائی کے لیے ایران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
بھارتی ترجمان کے مطابق بھارت اس حقیقت کی مذمت کرتا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع میں تجارتی بحری جہازوں کو فوجی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
’پہلے کے متعدد حملوں میں قیمتی انسانی جانیں، جن میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں، ضائع ہو چکی ہیں، اور اب حملوں کی شدت اور مہلکیت میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔‘
بیان میں بھارت نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ بحری جہازوں کی آزادی اور تجارتی سرگرمیوں کو روکا جانا قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: کیا بھارت خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ توازن کھورہا ہے؟
’بھارت اس بات پر زور دیتا ہے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور بے گناہ عملے کو خطرے میں ڈالنا یا بحری تجارت کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا بند کیا جانا چاہیے۔‘
یہ ردعمل اسی دن آیا جب تھائی پرچم بردار کارگو جہاز خلیج ہرمز کے تنگ مقام سے گزرتے ہوئے حملے کا شکار ہوا، بنکاک کی کمپنی پریشیس شپنگ کا ملکیتی یہ جہاز تقریباً 11 سمندری میل عمان کے ساحل سے دور حملے میں متاثر ہوا۔
ایران کے انقلابی گارڈز کور نے بتایا کہ موری ناری اور اسرائیلی ملکیت والے جہاز ایکسپریس روم پر حملہ اس وقت ہوا جب جہازوں نے وارننگز کو نظر انداز کیا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے امریکا، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک ایک قطرہ تیل بھی نہیں جانے دے گا۔













