ایک نئی تحقیق کے مطابق پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم لنکڈ اِن تیزی سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کے لیے معلومات کے اہم ذرائع میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائرڈ ہیڈفون: وائرلیس دور میں پرانی تکنیک کی واپسی
حالیہ مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی، گوگل اے آئی موڈ اور پرپلیکسیٹی جیسے پلیٹ فارمز اپنے جوابات تیار کرنے کے لیے لنکڈ اِن کے مواد کو کثرت سے حوالہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
یہ تحقیق سنہ 2025 کے آخر سے سنہ 2026 کے آغاز تک کی گئی جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ اے آئی سرچ انجنز اور جنریٹو اے آئی سسٹمز کس طرح آن لائن مواد سے معلومات لے کر اپنے جوابات تیار کرتے ہیں۔
اینالیٹکس پلیٹ فارم سیم رش کی رپورٹ کے مطابق جنوری اور فروری 2026 کے دوران بڑے اے آئی چیٹ بوٹس پر استعمال ہونے والے تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار پرامپٹس کا تجزیہ کیا گیا۔
مزید پڑھیے: ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟
اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اے آئی سے تیار ہونے والے جوابات میں لنکڈ اِن دوسرا سب سے زیادہ حوالہ دیا جانے والا ذریعہ بن گیا ہے جبکہ پہلے نمبر پر ریڈٹ رہا۔
ایک اور تجزیہ، جو ڈیٹا ٹریکنگ پلیٹ فارم پرفاؤنڈ نے نومبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران کیا، اس میں بتایا گیا کہ لنکڈ اِن مجموعی طور پر اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب سے سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی ویب سائٹس میں پانچویں نمبر پر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف 3 ماہ پہلے تک لنکڈ اِن اس فہرست کے ٹاپ 20 میں بھی شامل نہیں تھا۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لنکڈ اِن پر شائع ہونے والی پوسٹس، پیشہ ورانہ آرا اور تفصیلی مضامین اب کاروبار، کیریئر اور صنعت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے اے آئی ٹولز کے اہم ذرائع بنتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے کا طریقہ بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایٹ او ٹو ایس ای او ایجنسی کی تحقیق کے مطابق اب بہت سے صارفین روایتی سرچ انجنز کے بجائے براہ راست اے آئی ٹولز کے ذریعے اپنی آن لائن تلاش کا آغاز کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟
اسی وجہ سے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت بڑھ رہی ہے جہاں معتبر گفتگو اور پیشہ ورانہ تبصرے شائع ہوتے ہیں کیونکہ یہ مواد اے آئی سرچ نتائج، جنریٹو انجن آپٹیمائزیشن اور چیٹ بوٹس کے علمی ذرائع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔












