Encounterر ایک پاکستانی نژاد تاجر تھے جو بارسلونا، اسپین میں مقیم تھے اور وہاں کاروبار کرتے تھے۔ وہ اسپین کے شہری بھی تھے اور پاکستان میں خاندانی تنازعات کی وجہ سے قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ نعمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بہنوئی کے قتل کا منصوبہ بنایا، جو سہراب سائیکلز کے مالک محمد امجد قاضی کا نوجوان بیٹا تھا۔ وہ اسپین سے پاکستان آئے تاکہ عدالتوں میں پیش ہو سکیں اور کیسز کا سامنا کریں۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں پولیس مقابلہ، کئی وارداتوں میں ملوث بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
گزشتہ روز اسپین سے واپس آنے والے تاجر محمد نعمان قیصر، جو ایک قتل کیس کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے، کو رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق متوفی حال ہی میں بارسلونا میں ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد لاہور واپس آئے تھے۔ لاہور میں ان کے خلاف 3 مقدمات درج تھے۔ 2 مقدمات ناصر آباد پولیس اسٹیشن میں درج تھے، جبکہ ایک مقدمہ لاہور کے کاہنہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

ترجمان ضلعی پولیس رحیم یار خان کے مطابق ملزم نعمان کی موجودگی رحیم یار خان سے سندھ جاتے ہوئے پائی گئی۔ ملزم نعمان کی گرفتاری کے لیے آج صبح رحیم یار خان میں ناکہ بندی کی گئی تھی۔ خفیہ اطلاع پر پنجاب سندھ بارڈر پر ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک جانتے ہوئے روکا گیا، ملزم نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔
مقتول معاذ کے قتل میں ملوث ملزم نعمان ضمانت کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ ملزم نعمان 2023 میں منصوبہ بندی کے تحت معاذ کو قتل کروانے سے پہلے خود اسپین چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پولیس مقابلہ، ساتھیوں کی فائرنگ سے ایک ملزم ہلاک، 2 زخمی
ذرائع کے مطابق ملزم نعمان نے اسپین میں بیٹھ کر شوٹرز کی مدد سے معاذ کو قتل کروایا۔ ملزم نے ضمانت کے بعد سندھ سے ایک بار پھر فرار کا منصوبہ بنایا تھا۔ ملزم نے 2023 میں نصیر آباد تھانے کی حدود میں اجرتی قاتلوں کی مدد سے معاذ کو قتل کروایا۔ واقعہ میں ملوث دونوں اجرتی قاتلوں کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
یہ ایک جعلی انکاونٹر ہے
نعمان قیصر کے اہل خانہ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ سے نعمان کو ضمانت مل گئی تھی اور وہ کمپ جیل سے رہا ہوئے، تاہم انہیں اسی روز اغوا کر لیا گیا۔ نعمان قیصر کی اہلیہ کے مطابق کچھ عرصہ قبل ان کا نام منڈی بہاؤالدین میں ایک قتل کے مقدمے میں بھی درج کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی اہل خانہ نے لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور عدالت میں ثابت ہوا کہ پولیس نے نعمان قیصر کا نام غلطی سے قتل مقدمے میں شامل کیا تھا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ان کا نام فوراً اس مقدمے سے نکالا جائے۔ اہل خانہ کے مطابق رحیم یار خان پولیس نے جعلی انکاؤنٹر کر کے نعمان قیصر کو قتل کیا۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلے میں ملزم کی ہلاکت کے بعد ان کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ درخواست گزار خاتون آصفہ شاہین نے اپنے شوہر نعمان قیصر کی بازیابی کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نعمان قیصر ایک مقدمے میں جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے تھے اور سی سی ڈی نے بھی کہا تھا کہ انہیں یہ شخص مطلوب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جعلی پولیس مقابلہ: فیصل آباد پولیس کے 3 اہلکاروں کو سزائے موت کا حکم
وکیل کے مطابق اگلے ہی روز انہیں جیل سے باہر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور شہری کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست نمٹا دی۔














