لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

جمعہ 13 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے اضلاع لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا بڑا انکشاف ہوا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق غائب ہونے والی گندم کی مالیت 2 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ لاڑکانہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر نے 18 دسمبر 2025 کو چارج سنبھالا۔ مختلف مراکز کے اچانک دورے کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں ٹن سرکاری گندم ریکارڈ سے غائب ہے۔ متعلقہ اعلیٰ حکام کو بارہا آگاہ کرنے کے باوجود گندم کی چوری کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گندم چوری کیس کے ملزمان کو ضمانت نہ مل سکی

اس اربوں روپے کے اسکینڈل میں محکمہ خوراک کے اہم افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ جن افسران کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں سابق فوڈ کنٹرولر کشمور/کندھ کوٹ غلام مصطفیٰ میرانی، فوڈ انسپکٹر کندھ کوٹ ظہیر احمد بروہی اور انچارج پی آر سی کشمور محمد یوسف ملک شامل ہیں۔

افسران کو 22 جنوری کو ابتدائی نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم ان کی جانب سے دیے گئے جوابات کو محکمہ نے غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ اب انہیں 7 روز کے اندر حتمی جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی اور ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں گندم کی 8 لاکھ بوریاں خراب ہونے کا انکشاف، معاملہ کیا ہے؟

نیب کو لکھے گئے خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نیب سکھر کی ٹیموں نے 2023 اور 2025 میں بھی ان گوداموں کا دورہ کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں طویل عرصے سے جاری تھیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے ضلع وار چوری شدہ گندم کا مکمل ریکارڈ نیب کے حوالے کر دیا ہے۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر ایسے کیسز میں صرف گندم غائب نہیں ہوتی بلکہ سرکاری باردانہ بھی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے، جس سے قومی خزانے کو دوہرا نقصان پہنچتا ہے۔ افسران عموماً گندم کی کمی کو نمی کی وجہ سے وزن میں کمی قرار دے کر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن 24 ہزار میٹرک ٹن کی اتنی بڑی مقدار اس عذر کے تحت نہیں آتی۔ اس وقت سندھ میں گندم کی سرکاری قیمت تقریباً 4,000 روپے فی من کے قریب ہے۔ اس حساب سے 24 ہزار میٹرک ٹن کا تخمینہ واقعی اربوں روپے بنتا ہے۔ نیب عموماً ایسے کیسز میں انکوائری کو انوسٹی گیشن میں تبدیل کر کے ملوث افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال اور پلی بارگین کے آپشنز پر کام کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp